رانچی ۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) الیکشن کمیشن نے آج ادعا کیا کہ رانچی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی جیسا کہ شکایتیں کی جارہی تھیں۔ سیاسی پارٹیوں نے غیر ضروری طور پر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا جو پولیس اور عوام کے درمیان مدبھیڑ کی وجہ بن گیا جس میں 12 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ چیف الیکٹورل آفیسر پی کے ججوریا نے میڈیا کو بتایا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی جانچ پڑتال کی گئی لیکن ان میں کوئی خرابی پائی نہیں گئی۔ غلط فہمیوں کی وجہ سے پولیس اور عوام میں مدبھیڑ ہوئی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ بعض پولنگ بوتھس پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خرابی کی بنیاد پر رائے دہی دوبارہ کروائی گئی جس سے نہ صرف وقت کی بربادی ہوئی بلکہ ایسا کرنے سے انتخابی دھاندلیوں کا اندیشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ملک کے بعض گوشوں سے بیالٹ پیپر طریقہ کار کے احیاء کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے کیونکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے چھیڑچھاڑ کے واقعات گذشتہ انتخابات کے دوران بھی منظرعام پر آئے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی سخت کارروائی نہیں کی۔ اب دیکھنا یہ ہیکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین بنانے والی کمپنیوں اور سیاستدانوں میں کہیں سازباز تو نہیں ؟!