ممبئی۔/17 اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) الیکشن کمیشن کی جانب سے چہارشنبہ کو مہاراشٹرا میں منعقد ہوئے اسمبلی انتخابات میں خصوصی طور پر ممبئی شہر کی رائے دہی کا قطعی تناسب جاری کیا گیا جو 51.19 فیصد رہا جبکہ یہی تناسب 2009ء کے انتخابات میں صرف 45فیصد تھا۔ بہرحال 1995کے بعد ممبئی نے اسمبلی انتخابات میں رائے دہی کے تناسب میں 50فیصد کی حدود کو پار کرلیا۔ اگر پورے مہاراشٹرا میں رائے دہی کا تناسب دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے مطابق63.13 فیصد رہا جبکہ2009ء میں یہی تناسب 59.5فیصد تھا اور 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں اس کا تناسب 60.3 فیصد رہا جو جاریہ سال ماہ مئی میں منعقد کئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے قطعی اعداد و شمار کل شام جاری کئے گئے۔ ممبئی کے 36حلقہ رائے دہی کے منجملہ 20حلقوں میں کانگریس اور این سی پی کے موجودہ لیجسلیچرس ہیں۔ ممبئی کے جن پانچ حلقہ رائے دہی میں زائد از دس فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا ان میں دھاراوی، وڈالا، بائیکلہ، قلابہ
اور کاندیولی ( ایسٹ ) شامل ہیں جبکہ ناگاتھانے، وکرولی، مانخورو اور شیوجی نگر میں 2009کے مقابلے رائے دہی کا تناسب کم رہا۔ چاندیولی، انوشکتی نگر میں بھی رائے دہی کا تناسب کم رہا۔ یاد رہے کہ صرف قلابہ اور ورلی کو چھوڑ کر مابقی جتنے بھی حلقہ رائے دہی کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ وہاںسلم ( جھونپڑ پٹی ) میں رہنے والے رائے دہندوں کی کثیر تعداد ہے۔ مجموعی طور پر ممبئی میں مرد رائے دہندوں کا تناسب 51.99 فیصد اور خاتون رائے دہندوں کا تناسب 50.25 فیصد رہا۔ممبئی میں رائے دہی کا تناسب شاید اس لئے بھی کم رہا کہ نوجوان طبقہ نے اگر رائے دہی میں جوش و خروش سے حصہ لیا تو دوسری طرف سینئر شہریوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ کئی لوگ تو دسہرہ کی تعطیلات میں اپنے آبائی مقامات جانے کے بعد رائے دہی کے روز تک بھی ممبئی واپس نہیں ہوئے تھے۔