الٹی ہوگئی سب تدبیریں …

یدی یورپا ایک دن کا سلطان… خواب چکنا چور
سپریم کورٹ … جمہوریت کا محافظ

رشیدالدین
کرناٹک میں آخر کار یدی یورپا ’’ایک دن کا سلطان‘‘ ثابت ہوئے اور درکار اکثریت جٹانے میں ناکامی پر استعفیٰ دینا پڑا۔ یدی یورپا کو بی جے پی نے مزید توہین آمیز رویہ سے عوام میںرسواء کردیا ہے۔ جب حکومت کو اکثریت نہیں تھی تو انحراف کی کوششوں کیلئے گورنر کا استعمال کیا گیا لیکن سپریم کورٹ نے دستور اور جمہوریت کا تحفظ کیا ہے۔جنتا دل سیکولر اور کانگریس کے ارکان قابل ستائش ہیں جنہوں نے لالچ اور دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی اور وفاداری کو برقرار رکھا۔ یدی یورپا کا استعفیٰ جمہوریت کی کامیابی اور نریندر مودی اور امیت شاہ کی شکست ہے جو کرناٹک کے ذریعہ جنوبی ہند میں داخلہ کا خواب دیکھ رہے تھے۔ نریندر مودی کے وجئے رتھ کو آخر کار کرناٹک کے عوام نے روک دیا ہے۔عوام کے فیصلہ کے مطابق اب کانگریس ۔جے ڈی ایس کی مخلوط حکومت تشکیل پائے گی۔ انتخابی نتائج کے بعد سے سپریم کورٹ کے فیصلہ تک کرناٹک میں ہر لمحہ سیاسی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ آخر کار سپریم کورٹ نے سیاسی تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کرناٹک میں انحراف کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے بی جے پی کی کوششوں کی دھجیاں اڑادی ہے۔ عوام کے فیصلہ کے برخلاف گورنر نے جس انداز میں بی جے پی کو تشکیل حکومت کی دعوت دی ، اس سے اپوزیشن میں انحراف کے واضح طور پر اشارے مل رہے تھے۔ انتخابی نتائج کے فوری بعد مرکزی حکومت اور اس کے ادارے حرکت میں آگئے تاکہ کانگریس اور جنتا دل سیکولر ارکان کو خریدا جاسکے۔ انحراف کیلئے بھاری رقم اور کابینی عہدہ کے پیشکش کی اطلاعات ملی ہیں۔ بی جے پی کیلئے کرناٹک وقار کا مسئلہ ہے ، لہذا وہ کسی بھی صورت میں تشکیل حکومت کا من بناچکی تھی ۔ انتخابی نتائج معلق اسمبلی کے حق میں رہے۔ کرناٹک کے رائے دہندوں نے کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں دی جس کا مطلب صاف ہے کہ عوام کی نظر میں کوئی بھی پارٹی حکومت کرنے کے لائق نہیں۔

سدا رامیا حکومت کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی کو واحد بڑی پارٹی کا موقف دیا گیا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بی جے پی اکثریت کے بغیر ہی حکومت تشکیل دے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور پارٹی صدر امیت شاہ ہمیشہ سیاست میں اصول پسندی اور اقدار کے دعوے کرتے رہے لیکن جب کرناٹک کا معاملہ آیا تو تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔ وزیراعظم سے قربت رکھنے والے گورنر نے عوام کے فیصلہ پر اپنا ذہن استعمال کرنے اور دستور کے مطابق فیصلہ کے بجائے اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارہ پر یدی یورپا کو تشکیل حکومت کی دعوت دے ڈالی۔ کرناٹک کے عوام بھی اس بات پر حیرت میں تھے کہ گورنر نے درکار اکثریت کا یقین کئے بغیر کس طرح بی جے پی کو تشکیل حکومت کی دعوت دی ہے۔ گورنر سے ملاقات کے وقت یدی یورپا نے تائیدی ارکان کی جو فہرست پیش کی اس میں سوائے 104 بی جے پی ارکان کے دوسرے نام نہیں تھے ۔ حکومت کی تشکیل کیلئے 111 ارکان کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ تشکیل حکومت کی دعوت کا مقصد یدی یورپا کو ارکان کی خرید و فروخت کی اجازت دینا ہے۔ درکار اکثریت کیلئے انحراف کے بغیر کوئی اور راستہ نہیں تھا، اس کے باوجود گورنر نے اپنے عہدہ اور ذمہ داری کا احساس کئے بغیر بی جے پی کے حق میں فیصلہ دیا ۔ کسی گورنر کی جانب سے انحراف کی درپردہ اجازت کا یہ منفرد واقعہ تھا ۔ نتائج کے فوری بعد کانگریس اور جنتا دل سیکولر نے اتحاد کرتے ہوئے مخلوط حکومت کی تشکیل کا دعویٰ کیا اور ان کے پاس درکار تعداد بھی موجود ہے۔ آخرکار سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا ۔ ملک میں جب کبھی دستور اور جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوا ، عدلیہ نے اس کا تحفظ کیا ہے۔ ملک میں اس کا طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں ، جب سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کے علاوہ گورنرس کے فیصلوں کو الٹ دیا ہے۔

جمہوریت میں مقننہ اور عاملہ کی طرح عدلیہ ایک ستون ہے لیکن جب کبھی جمہوریت اور دستور پر آنچ آئی ہے، عدلیہ کو متحرک ہونا پڑا۔ کرناٹک کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے نہ صرف غیر معمولی سماعت کی بلکہ تاریخی فیصلہ سنایا۔ گورنر نے اکثریت ثابت کرنے کیلئے 15 دن کی جو مہلت دی تھی ، اسے سپریم کورٹ نے 24 گھنٹے میں تبدیل کردیا۔ یدی یورپا کو اکثریت ثابت کرنے تک اہم فیصلوں سے روک دیا گیا ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بی جے پی اور گورنر کیلئے ایک زبردست جھٹکا ہے۔ اس فیصلہ سے مستقبل میں بھی انحراف کی کوششوں کو نمٹا جاسکتا ہے۔ گورنر نے جس انداز میں اپنی سیاسی وابستگی اور وفاداری کا ثبوت دیا ، اس سے جمہوریت پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوگیا۔ بی جے پی کو امید تھی کہ وہ 15 دن کی مہلت میں کانگریس اور جنتا دل سیکولر سے ارکان کو توڑنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن دونوں پارٹیوں نے خرید و فروخت کو روکنے جو منصوبہ بندی کی ہے، اس سے بی جے پی کی امیدوں پر پانی پھرتا دکھائی دے رہا ہے۔ دونوں پارٹیوں نے اپنے ارکان کو انحراف سے بچانے کیلئے حیدرآباد منتقل کردیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے بی جے پی حلقوں میں مایوسی اور کانگریس اور جنتا دل خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ مخلوط حکومت کی تشکیل کے امکانات بظاہر روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ کرناٹک کے رائے دہندوں نے اگرچہ بی جے پی کو بڑی پارٹی کا موقف دیا لیکن مجموعی طور پر ان کی رائے مخالف بی جے پی رہی ۔ کانگریس اور جنتا دل سیکولر کے ارکان کے مقابلہ بی جے پی ارکان کی تعداد کم ہے۔ اتنا ہی نہیں بی جے پی کا ووٹ فیصد کانگریس کے انفرادی ووٹ فیصد سے کم رہا۔ رائے دہندوں کے فیصلہ کا احترام نہ ہونا جمہوریت کیلئے شرمناک ہے۔ عدلیہ نے ان کوششوں پر روک لگانے کی کوشش کی ہے۔ یدی یورپا کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے معاملہ پر سپریم کورٹ کی راست نگرانی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ مودی اور امیت شاہ کیلئے بھی اخلاقی شکست ہے جنہوں نے انحراف کی تیاری کرلی تھی۔ گورنر کیلئے بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ اخلاقی شکست اور انہیں دستوری ذمہ داریوں کی یاد دلاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقفہ وقفہ سے ملک میں گورنر کے عہدہ کی برخواستگی کے حق میں آوازیں اٹھتی رہی ہیں۔ گورنر کا عہدہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا چاہئے ۔ گورنر دراصل ریاستوں میں ملک کے دستوری سربراہ صدر جمہوریہ کا نمائندہ ہوتا ہے ، لہذا غیر سیاسی افراد کو اس عہدہ پر فائز کیا جانا چاہئے ۔ گزشتہ چند برسوں سے اس عہدہ کو سیاسی بازآبادکاری کا مرکز بنادیا گیا۔ پارٹی سے وفاداری کا پیمانہ بناکر گورنرس نامزد کئے جارہے ہیں، ایسے افراد کے فیصلے عدالتوں میں حکومت کی رسوائی کا باعث بن رہے ہیں ۔ دراصل بات یہ ہے کہ حالیہ عرصہ میں منی پور ، میگھالیہ اور گوا میں وہاں کے گورنرس نے واحد بڑی پارٹی کو تشکیل حکومت کی دعوت نہیں دی بلکہ نتائج کے بعد بننے والے اتحاد کو حکومت سازی کا موقع دیا گیا۔ دراصل کانگریس کو اقتدار سے روکنے کیلئے یہ فیصلے کئے گئے۔ ان ریاستوں کے گورنرس نریندر مودی حکومت کی جانب سے نامزد کردہ ہیں۔ جب تین ریاستوں میں ایک موقف اختیار کیا گیا تو پھر کرناٹک میں انحراف کیوں ؟ یہ مرکز کی دوہری پالیسی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ملک میں آج بھی عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہے اور وہی دستور اور جمہوریت کی حقیقی محافظ اور پاسبان ہے۔

گورنر کے عہدہ کا سیاسی استعمال ملک میں کوئی نئی بات نہیں۔ کانگریس پارٹی نے اپنے دور میں گورنرس کو اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا جس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بی جے پی نے کانگریس سے ہی یہ فن سیکھا ہے اور اسی کے نقش قدم پر چل پڑی ہیں۔ کرناٹک کی ایس آر بومائی اور آندھراپردیش میں این ٹی راما راؤ حکومت کے خلاف جس طرح گورنرس کو استعمال کیا گیا ، وہ آج بھی عوام کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ دستور نے معلق اسمبلی کے سلسلہ میں گورنر کو جو اختیارات دیئے ہیں ، ان میں سے ایک آپشن واحد بڑی پارٹی کو تشکیل حکومت کی دعوت دینا ہے۔ یہ فیصلہ اسی صورت میں درست قرار پائے گا جب بڑی پارٹی اپنی تائید میں دیگر پارٹیوں یا ارکان کے تائیدی مکتوب پیش کرے۔ کرناٹک میں ایسا کچھ نہیں ہوا ، گورنر نے اکثریت کے امکانات کا جائزہ لئے بغیر ہی یدی یورپا کو چیف منسٹر کے عہدہ کا حلف دلا دیا ۔ کرناٹک کی تبدیلیوں کے بعد اپوزیشن نے بی جے پی کے اطراف گھیرا تنگ کرنے کیلئے منی پور ، گوا ، میگھالیہ اور بہار میں تشکیل حکومت کی دعویداری پیش کردی ہے ۔ واحد بڑی جماعت کے باوجود جنہیں دعوت نہیں دی گئی، وہ پارٹیاں گورنر سے ملاقات کی تیاری کر رہی ہیں ۔ یہ تبدیلی نہ صرف ان ریاستوں کے گورنرس بلکہ ان کا استعمال کرنے والی مرکزی حکومت کیلئے بھی الجھن کا باعث رہے گی۔ کرناٹک کی تازہ صورتحال پر میر تقی میر یہ شعر صادق آتا ہے ؎
الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا