ریاض ۔ 19 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو اسلام کا ’’اولین دشمن‘‘ قرار دیا۔ ان کا ایک بیان آج ریاض سے جاری کیا گیا۔ سعودی عرب کے اعلیٰ ترین عالم دین نے کہا کہ ’’انتہاء پسندی، بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے نظریات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان نظریات پر عمل کرنے والے اسلام کے اولین دشمن ہیں‘‘۔ انہوں نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے جنہوں نے عراق اور شام کے بیشتر علاقہ پر قبضہ کرکے خلافت کا اعلان کردیا ہے اور عالمی دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ سے ملحق ہیں، کہا کہ ان کی انتہاء پسندی کے اصل شکار مسلمان ہیں جیسا کہ خودساختہ دولت اسلامیہ کے ارتکاب کردہ جرائم سے ثبوت ملتا ہے۔ القاعدہ اور اس سے ملحق گروپس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کی ایک آیت کی تلاوت کرتے ہوئے جس میں عوام کی ہلاکت کو اسلام کیلئے ضرر رساں قرار دیا گیا ہے، کہا کہ ان خودساختہ دیہاتیوں کا موقف ثبوت دیتا ہیکہ یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں کیونکہ ان کی بے رحمی واضح ہوچکی ہے۔ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شام میں اپنے قدم جما لئے ہیں اور 9 جون سے عراق میں بھی یلغار کرتے ہوئے بیشتر علاقوں پر قابض ہوچکے ہیں۔ مفتی اعظم سعودی عرب نے انتباہ دیا کہ اسلام میں مسلمانوں کو تقسیم کرنا سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے فروغ اور پائیداری کی وجہ اس کی رواداری ہے۔ ملک عبداللہ نے 29 جون کو عہد کیا تھا کہ وہ مٹھی بھر دہشت گردوں کو اسلام کا شخصی مقاصد کیلئے استحصال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مسلمانو ںکو دہشت زدہ کرنے یا سعودی عرب اور اس کے شہریوں کی اہمیت کم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
داعش نے تین ہزار خواتین اور بچیوں کو یرغمال بنا لیا
بغداد۔19 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ عراق میں داعش نے مزید تین ہزار خواتین اور بچیوں کو یرغمال بنا لیا۔ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ داعش نے قابض علاقے بیجنار میں مزید تین ہزار خواتین و بچیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ داعش علاقے سے فرار ہونے میں ناکامی والے خاندانوں پر بدترین ظلم اور تشدد کر رہی ہے جبکہ ابھی تک یرغمال بنائے گئے ہزاروں خواتین اور بچوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یرغمالیوں کی بڑی تعداد میں مردوں کو پھانسی دینے کی اطلاعات ہیں۔