اقوام متحدہ سکریٹری جنرل کا تباہ حال غزہ پٹی کا دورہ

غزہ سٹی ، 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے سربراہ بانکی مون نے جنگ سے تباہ حال غزہ کا آج مختصر دورہ کیا جبکہ دو روز قبل معطی ممالک نے تباہ کن اسرائیلی جارحیت کے بعد تعمیرنو کیلئے مدد کے بطور 5.4 بلین امریکی ڈالر کی فراہمی کا عہد کیا تھا۔ بان کو غزہ سٹی کے شجاعیہ علاقہ کی تباہ گلیوں اور قریب میں واقع جبلیہ رفیوجی کیمپ کا معائنہ کرایا گیا، جو موسم گرما کی لڑائی میں انتہائی بھاری اسرائیلی شلباری کا سب سے زیادہ شکار ہوئے۔ اس تباہی سے دسیوں ہزار فلسطینی بے گھر ہوئے اور آج لوگ اپنے تباہ شدہ مکانات کے باہر کیمپ لگائے جی رہے ہیں، جنہوں نے اپنے سامنے سے گذرتی اقوام متحدہ کی گاڑیوں کے قافلہ کا ہاتھ لہراتے ہوئے خیرمقدم کیا۔نوتشکیل شدہ فلسطینی متفقہ حکومت کے ارکان سے ملاقات کے بعد بان نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ جو تباہی انہوں نے دیکھی وہ 2008-09ء کے سرمامیں اسرائیل ۔ غزہ لڑائی کی سابقہ بربادی سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ ’’جو تباہی میں نے یہاں آکر دیکھی ہے وہ بیان سے باہر ہے ۔ یہ اس سے کہیں زیادہ سنگین بربادی ہے جو میں نے 2009ء میں دیکھی تھی۔ میں اس موقع پر ان لوگوں کیلئے جو اپنی زندگیوں اور اپنے عزیز و اقارب سے محروم ہوگئے ، اپنے گہرے دکھ اور تعصب کا اظہار کرتا ہوں ‘‘۔ بان جنہوں نے اس علاقہ کا 2012ء میں آخری مرتبہ دورہ کیا تھا، انہوں نے اتوار کو مصر میں منعقدہ ڈونر کانفرنس میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقہ کو ان کے سفر کا مقصد ’’غزہ کے لوگوں سے راست گفتگو‘‘ کرنا ہے۔