اقلیتی اقامتی اسکولوں میں زیرتعلیم طلبہ انقلاب لائیں گے : کے سی آر

کانگریس کو سبق سکھائیں ورنہ آندھرائی قائدین مسلط ہوجائیں گے ، نرمل ، بھینسہ اور دیگر مقامات پر جلسوں سے سربراہ ٹی آر ایس کا خطاب

نرمل ۔ /23 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست تلنگانہ میں چندرا بابو نائیڈو کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لئے کانگریس کو انتخابات میں سبق سکھانے کے لئے تیار رہنا ہوگا ۔ ورنہ پھر ایک بار آندھرائی قائدین ہم پر مسلط ہوجائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار کارگذار ریاستی وزیر اعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ نے نرمل میں ٹی آر ایس امیدوار اے اندرا کرن ریڈی کے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چندر شیکھر راؤ نے کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مجلس سے اپنی اٹوٹ وابستگی کا کھل کر اعلان کیا ۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ میں کئی اسکیمات کی عمل آوری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ہم نے ایسی اسکیمات بھی روشناس کرائی ہیں جس کا انتخابی منشور میں کوئی ذکر نہیں تھا ۔ آج غریب ہندو مسلم لڑکیوں کی شادی کے لئے ایک لاکھ روپئے سے زیادہ رقم جس کی ملک کے کسی بھی ریاست میں مثال نہیں دی جاتی ۔ ساتھ ہی ملک کے کسی ریاست میں چوبیس گھنٹے برقی کی سربراہی کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا ۔ آئندہ دس برس میں اقامتی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء تعلیمی انقلاب برپا کریں گے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے 58 برس حکومت میں رہتے ہوئے کبھی تعلیمی میدان میں نسل نو کو آگے بڑھانے پر غور نہیں کیا ۔ حصول تلنگانہ کے لئے کی گئی جدوجہد کا میں تذکرہ کرنا نہیں چاہتا کیونکہ آپ لوگوں نے دیکھا ہے کہ ہمیں کس قدر احتجاج کے بعد یہ امانت حاصل ہوئی ۔ آج اپوزیشن جماعتیں ٹی آر ایس کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں ۔ نرمل کے آج اس انتخابی جلسہ میں اتنی بڑی تعداد میں آپ کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اے اندرا کرن ریڈی کی کامیابی کو کوئی روک نہیں سکتا ۔ انہوں نے مرکزی حکومت بالخصوص وزیراعظم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کی ذہنیت صاف نہیں ہے کیونکہ مسلم ریزرویشن اور دلت کے ریزرویشن پر ہم نے لڑا اور منظور کرتے ہوئے انہیں روانہ کیا جبکہ میں نے کوئی تیس لیٹر وزیراعظم کو لکھے ۔ ابھی اس ریاست میں بہت کچھ ترقیاتی کام انجام دینا ہے ۔ میں تمام طبقات کی ترقی کے لئے فکر مند ہوں ۔ آپ اس بار بھی ٹی آر ایس کو بھاری اکثریت سے منتخب کریں ۔ چندرشیکھر راؤ کوئی چالیس منٹ خطاب کیا ۔ بعد ازاں بھینسہ روانہ ہوگئے ۔ شہ نشین پر امیدوار حلقہ اسمبلی نرمل اے اندرا کرن ریڈی ، ڈاکٹر ایس وینو گوپال چاری ، ستیہ نارائن گوڑ ، رام کشن ریڈی کے علاوہ اقلیتی قائدین بھی موجود تھے ۔ دوران تقریر کے سی آر، اے اندرا کرن ریڈی کی کارکردگی کی ستائش کرتے دیکھے گئے ۔ نمائندہ محبوب خاں کے بموجب عادل آباد میں منعقدہ جلسہ عام سے کے سی آر نے تقریباً 20 منٹ تقریر کی اور خطاب کرتے ہوئے اپنے انتخابی منشور کو دہرایا اور ضلع کے قبائیلی علاقہ میں پائے جانے والے گروہ بندی کے مسائل کو حل کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ گونڈ ، لمباڑہ طبقات کے مسائل اقتدار حاصل ہونے کے 6 ماہ کے دوران حل کرنے کا تیقن دیا ۔ ضلع عادل آباد کو ہر زمرہ میں ترقی کی سمت گامزن کرتے ہوئے ہرممکن اقدامات کرنے کا تیقن دیا ۔ قبل ازیں یوتھ ٹی آر ایس امیدوار مسٹر راٹھور بابو راؤ کے علاوہ مسٹر یونس اکبانی نے بھی مخاطب ہوکر مراٹھی زبان میں ضلع عادل آباد کے انجیٹی علاقہ کے عوام کے مسائل حل کرنے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے خواہش کیا ۔ اس جلسہ میں مسرس گووردھن ریڈی ، لوکا بھوما ریڈی ، وینو گوپال چاری ، مسٹر جی ناگیش رکن لوک سبھا بھی موجود تھے ۔ نمائندہ بھینسہ اظہر احمد خاں کے بموجب بھینسہ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے ٹی آر ایس امیدوار جی وٹھل ریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کی ۔ قبل ازیں اعجاز احمد خان سابقہ نائب چیرمین بلدیہ ، جی مرلی گوڑ ، جی سرینواس اور راجیش بابو کے علاوہ جی وٹھل ریڈی نے خطاب کیا ۔ اس جلسہ میں ٹی آر ایس قائدین جن میں متحدہ ضلع عادل آباد ایم پی جی ناگیش ، ڈاکٹر ایس وینو گوپال چاری ، محمد سراج الدین ، شیخ منیر قریشی ، ولاس گادیوار ، رمیش مہاشٹی وار ، ڈاکٹر دامود دھر ریڈی ، افروز خان ، پنڈت پٹیل ، سنجیو ریڈی ، سوریم ریڈی ، سولنکی بھیم راؤ ، راجیشور ، رمیش ، جے کے پٹیل و دیگر موجود تھے ۔ نمائندہ فاروق حسین کے بموجب میدک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آرنے حلقہ اسمبلی میدک سے اپنے امیدوار محترمہ ایم پدما دیویندر ریڈی کو ایک لاکھ سے زائد اکثریت ووٹ سے منتخب کرنے کی رائے دہندوں سے اپیل کی ۔ انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ گزشتہ انتخابی جلسہ میں میدک و مستقر کو ضلع کا درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جو کہ پورا کرلیا گیا ۔ اب اس مرتبہ بھی پدما ریڈی کو منتخب کرنے پر میدک میں سرکاری انتظامیہ کے تحت ایک میڈیکل کالج اور انجنیئرنگ کالج قائم کرنے کا وعدہ کیا ۔ اس جلسہ کو ٹی ہریش راؤ ، دیویندر ریڈی ، پدما ریڈی ، اور ایم پی پربھاکر ریڈی سے بھی خطاب کیا ۔ صدر ٹاؤن ٹی آر ایس مسٹر ایم گنگا دھر نے تلنگانہ پر مبنی حکومت کی اسکیمات پر مشتمل گیت سنائے ، اس موقع پر صدرنشین ضلع پریشد محترمہ راجہ منی مرلیدھر ، امیدوار نرساپور مسٹر سی ایچ مدن ریڈی ، صدرنشین بلدیہ مسٹر اے ملکارجن گوڑ ، راگی اشوک ، سابق ایم ایل اے کرنم اوما دیوی ، سوما شیکھر راؤ ، لنگا ریڈی ، صدرنشین اسٹیٹ مائننگ کارپوریشن ، مسٹر ایس سبھاش ریڈی ، لکشمی کشٹیا ، سوپنا گوڑ ، لاواینا ریڈی ، بی وجئے لکشمی ، سید صادق ، آر کے سرینواس ، ایم اے حمید ، منیر محی الدین ، عمر محی الدین ، نریندر ، غوث قریشی ، سکریٹری اسٹیٹ ایم دیویندر ریڈی ، سی ایچ نرسملو ، میر اصغر علی ، چندرا گوڑ کے علاوہ ٹی آر ایس کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی ۔نمائندہ محمد ظفر کے بموجب آرمور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا ، ٹی آر ایس امیدوار جیون ریڈی نوجوان قائد ہیں اور اس نے حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے آرمور کی ترقی میں اہم رول ادا کیا انہیں پھر سے آشیرواد دے کر بھاری میجاریٹی سے کامیاب بنائیں ۔ اس موقع پر جیون ریڈی ، رکن پارلیمنٹ کے کویتا ، سابقہ اسپیکر سریش ریڈی ، ریڈکو چیرمین ایس اے علیم ، ریاستی سکریٹری ٹی آر ایس طارق انصاری ، اقلیتی ضلعی صدر نوید اقبال ، ڈاکٹر مدھو شیکھر نے بھی خطاب کیا ۔ اس پروگرام میں ملک بابا ، عبدالرحمن کونسلرس ، محمد عبدالعظیم کوآپشن ممبر ، سمیر احمد ، عثمان حضرمی ، ساجد علی ، محمد معز ، شیخ بابو ، عمران جابری ، اس کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد موجود تھی ۔