نلگنڈہ۔/9جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بیروزگار اقلیتوں کو خود روزگار اسکیمات سے مربوط کرواتے ہوئے ان کی معاشی بہبود کیلئے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے روشناس کردہ سبسیڈی لون اسکیم کی عمل آوری میں ہورہی تاخیر اور بے قاعدگیوں کے سبب درخواست گذار بیروزگاروں کو سنگین مسائل سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہر درخواست گذار کو50فیصد سبسیڈی محکمہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ادا کرتا ہے باقی ماندہ بینک اور استفادہ کنندہ کا حصہ ہوتا ہے۔ اس خصوص میں سابق حکومت نے جی او ایم ایس نمبر 101جاری کیا تھا، اس کے تحت ضلع نلگنڈہ میں پہلے مرحلے میں 50استفادہ کنندوں کو منتخب کرکے 22لاکھ 55ہزار روپئے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی جانب سے سبسیڈی کی اجرائی عمل میں آئی۔
دوسرے مرحلے میں 67درخواستوں کی یکسوئی کرتے ہوئے 31لاکھ 55ہزار روپئے سبسیڈی کے منصوبے جات ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو روانہ کئے گئے اور تیسرے مرحلے کے طور پر 32استفادہ کنندوں کیلئے 15لاکھ 67ہزار 500روپئے کی سبسیڈی منظوری کیلئے رپورٹ روانہ کی گئی۔ تاحال ریاستی کارپوریشن کی جانب سے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے درخواست گذاروں کو سبسیڈی رقم کی منظوری عمل میں نہیں آئی۔ لیکن طرفہ تماشہ یہ ہے کہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کے درخواست گذاروں کے منجملہ چند ایک درخواستگذاروں کو بعض بینکوں کی جانب سے ایس ایم ایس روانہ کیا جارہا ہے کہ آپ لون کی سود کی رقم ادا کریں۔
جس سے استفادہ کنندگان شدید الجھن اور تفکرات میں مبتلاء ہورہے ہیں ۔ جب لون ہی فراہم نہ ہو تو سود کس طرح کا ادا کیا جائے۔ اس برعکس سبسیڈی کی منظوری کیلئے درخواست گذاروں کو مختلف مرحلوں سے گذرتے ہوئے شرائط کی تکمیل کرنا پڑتا ہے۔ درخواستگذار کو پہلے اپنی درخواست اور مطلوبہ دستاویزات کو آن لائن کروانا پڑتا ہے ۔ اس کے بعد مقامی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن استفادہ کنندہ کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ بینک کی رضامندی حاصل کریں۔ بینک سے رضامندی حاصل کرن کیلئے مسلسل بینکوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں کہیں جاکر بینک رضامندی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد مجلس بلدیہ میں واقع شعبہ میپما (MEPMA) سے رجوع ہونا پڑتا ہے۔ یہاں کی پانچ رکنی کمیٹی درخواست گذار کی جانچ پڑتال کے بعد دوبارہ دفتر اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو روانہ کیا جاتا ہے جہاں سے ان تمام درخواستوں کو ضلع کلکٹر کی زیر قیادت ڈسٹرکٹ سلیکشن کمیٹی کے سپرد کیا جاتا ہے۔
یہاں پر منظوری کے بعد بذریعہ مقامی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن ریاستی دفتر کو روانہ کیا جاتا ہے۔ جہاں پر سبسیڈی کی رقم کی منظوری و اجرائی عمل میں آتی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے بھی اقلیتی مسلمانوں کے ساتھ جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی بدترین مثال یہ ہے کہ تین مرحلوں کے دوران منظور کردہ سبسیڈی رقومات نے صرف عیسائی اقلیت کو ہی اجرائی کی گئی ہے اور مسلم بیروزگاروں کی سبسیڈی قرض درخواستوں کی تاحال یکسوئی و اجرائی نہ کرنے کی مسلم بیروزگاروں میں شدید بے چینی و ناراضگی پائی جاتی ہے۔ نئی تلنگانہ سرکار سے ضلع کے مسلم بیروزگار درخواست گذار اپنی امیدیں وابستہ کرتے ہوئے اس بات کا پرزور مطالبہ کیا کہ اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے متعلق اپنے عہد اور عزائم کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ریاستی اقلیتی کارپوریشن کو فوری ہدایت دیں کہ وہ جنگی خطوط پر مسلم بیروزگار درخواست گذاروں کو سبسیڈی رقومات کی اجرائی عمل میں لائیں۔