اقدار تعلیم کے ذریعہ بہتر معاشرہ کی تشکیل

محبوب نگر ۔ 22 ۔ اگست : ( فیاکس ) : عصر حاضر میں یونیورسٹی کی سطح پر ڈگری کے طلبہ کے لیے اقداری تعلیم کو شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد طلباء کی نئی نسل کو بہتر سماج کی تعمیر کے لیے تیار کرنا ہے ساتھ ہی ہر فرد اور سماج میں مسرت خوشحالی ، اخلاقی جذبہ کو فروغ دینا ہے تاکہ طلبہ میں اچھے اخلاق و اقدار کا فروغ ہو اور ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم چیرپرسن بورڈ آف اسٹڈیز عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے ایم وی ایس ڈگری کالج محبوب نگر میں منعقدہ توسیعی لکچر کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دور حاضر میں ہم اپنی تہذیب اور اخلاق سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ ضرورت ہے کہ اچھے اخلاق و کردار کے ذریعہ والدین ، رشتہ دار اساتذہ اور سماج میں بسنے والے افراد کی خدمت کی جائے ۔ قبل ازیں ڈاکٹر سیادت علی سابق ریڈر نے موجودہ تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ٹکنالوجی کے اس دور میں تعلیمی میدان میں بھی بہت زیادہ تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں اور طلبہ کی سونچ و فکر میں تبدیلی آئی ہے ۔ طلبہ میں مادیت کا جذبہ پیدا ہوا ۔ طلبہ کو چاہئے کہ وہ اپنی صلاحیتوں و مہارتوں کی نشوونما کے ذریعے انسانیت کی خدمت کے لیے تیار ہوں اور ایک مثالی طالب علم کا نمونہ پیش کریں ۔ صدارتی خطاب میں ڈاکٹر جی یادگیری پرنسپل کالج نے طلبہ کو نظم و ضبط کی پابندی کرنے اور وقت کی اہمیت کو ملحوظ رکھنے کا مشورہ دیا ۔ ڈاکٹر محمد غوث نے استقبالیہ کلمات کہے ۔ اس موقع پر یوسف بابا سماجی جہد کار نے بھی اس پروگرام کو مخاطب کیا ۔ توسیع لیکچر کے بعد مشاعرے کا آغاز عمل میں آیا ۔ شعراء کرام میں ڈاکٹر محمد عبدالعزیز ، صادق فریدی ، چچا پالموری ، حلیم بابر ، ڈاکٹر سلیم عابدی ، ظہیر ناصری ، نور آفاقی نے اپنا کلام سنایا ۔ اس پروگرام میں طلباء نے بہترین ثقافتی مظاہرہ پیش کیا ۔ محمد زبیر نے اختتامی تقریر کی ۔ پروگرام کی نظامت آفرین سلطانہ ، عارفہ جبین نے انجام دی ۔ آسیہ سلطانہ کے شکریہ پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا ۔ اس تقریب میں زرین کہکشاں کو ڈاکٹر سیادت علی کی جانب سے نقد انعام سے نوازا گیا ۔۔