اسلام کی سچائی جاننے کیلئے دنیا بے چین

محبوب نگر ۔11جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ایمان و یقین کی دولت اور اسلام کی نعمت جو اُمت مسلمہ کو حاصل ہے دنیا میں کوئی قوم اس کی ہمسری نہیں کرسکتی ۔ قرآن مجید جیسا معجزہ ہمارے پاس ہے جو تمام زبانوں کے انسانوں کیلئے ہدایت اور کتاب رحمت ہے ۔ یہ ہماری ذمہ داری ہیکہ ہم دنیا کے سامنے اس کو پیش کریں‘ ترستی ہوئی پیاسی دنیا کو اس سے واقف کرائیں ۔ مغرب اور یورپ اور صیہبونی و صلیبی میڈیا نے اسلام کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلائی ہیں ‘ سنجیدہ اور مثبت دعوتی کام کے ذریعہ اس کو روکا جاسکتا ہے ۔ آج دنیا اسلام کی حقیقت اور سچائی کو جاننے کیلئے بے چین ہیں اگر ہم نے دعوت کے کام کو بیڑہ اٹھایا تو وہ دن دور نہیں کہ لوگ بڑی تعداد میں داخل اسلام ہونے لگیں ۔ ان خیالات کا اظہار سعودی عرب کے نائب وزیر تعلیم ڈاکٹر سلیمان العمران نے سراج العلوم محبوب نگر میں اپنے خطاب کے دوران کیا ۔ المعہد العالیٰ للداراسات اسلامیہ کے ڈائرکٹر مولانا یحییٰ نعمانی ندوی لکھنو نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمان اپنے اندر صحابہ کرام جیسی غیر معمولی ایمان و یقین کی کیفیت یپدا کریں ‘ اپنی زندگیوں کو بدلنے کا تہیہ اور محاسبہ کرنا ہوگا ۔ علماء اور اہل علم سے تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا بصورت دیگر یہاں اسپین کی تاریخ دھرائی جاسکتی ہے ۔ صاحب نسبت بزرگ مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی نے اپنے خطاب میں تقویٰ اختیار کرنے ‘ اللہ سے تعلق بڑھانے ‘ اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے واقف کرانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ترکی سے آئے مہمان ڈائیلاگ فاؤنڈیشن کے چیرمین عثمان کایاگولو نے کہا کہ آج امت تین بنیادی مسائل سے دوچار ہے ۔ جہالت ‘ فقرو غربت ‘ انتشار ۔ جہالت کا مقابلہ علم سے ‘ فقر کا مقابلہ تجارت سے انتشاری کا مقابلہ اتحاد سے کیا جانا چاہیئے ۔ آج ہم سب کو ملکر اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر تکمیل حفظ کرنے والے 9طلباء اور 3طالبات کو اور عالمیت مکمل کرنے والوں کو خمار دی گئی اور طلباء کی دستاربندی عمل میں آئی ۔ مولانا صلاح الدین سیفی نقشبندی کی رقت انگیز دعا پر جلسہ اختتام کو پہنچا ۔ مولانا امیر اللہ خان قاسمی ‘ مولانا مطیع الرحمن مفتاحی ‘ مولانا ثناء اللہ خان قاسمی ‘ خواجہ ضامن حسین ہاشمی ‘ شیخ بشیر الدین ‘ حافظ ادریس ‘ حافظ صفدر حسین ‘ حافظ عبدالصبور خان ‘ مولانا افتخار قاسمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ مولانا ثناء اللہ خان قاسمی نے کارروائی چلائی اور مہمان علماء کی تقاریر کا اردو ترجمہ کیا ۔ اس موقع پر اطراف کے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران اور علماء اکرام شریک تھے ۔ ان کے علاوہ شہر کے سیاسی و سماجی قائدین بھی موجود تھے ۔