بیدر:16مارچ (سیاست ڈسڑکٹ نیوز) اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو دنیا میں تاقیامت تک آنے والے تمام مسائل کا حل بتاتاہے او ر عاقل وہ ہے جو فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا ۔ اس لئے شریعت پر عمل اس کے لئے سہل ، مستقیم اور معتدل ہوجاتاہے اور اس مے کوئی کجی، عسر اور تنگی محسوس نہیں ہوتی ۔ آج ہم ان چارجلیل القدر صحابیات کی سیرت پر بھی غوروفکر کریں گے جو امت میں سب سے افضل اور ہمارے خلفاء راشدین ہیں جن میں سرفہرست ابوبکر صدیق ؓ ہیں جو پیارے نبی کریم ﷺ کے قریبی رفیق ہیں جن کی وجہ سے قرآن میںکئی ایک جگہ احکامات نازل ہوئے ہیں ۔ اور اللہ نے تاقیامت ابوبکر صدیقؓ کی فضیلت کا قرآن میں ذکر کیا ہے کہ امت میں سب سے افضل آپؓ ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ پیارے نبی کریم کے بعدتمام صحابہ نے اتفاق رائے سے ابوبکر صدیق ؓ کو اپنا خلیفہ چنااور نبی کریم نے فرمایا کہ اللہ کے بعد مجھے سب سے محبوب ابوبکر صدیقؓ ہیں اور آپؓ کے زمانے میں ہی تدوین قرآن کی کتابت کاکام شرع ہوا۔ دوسرے حضرت عمرؓ ہیں جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ جب حضرت عمر ؓ چلتے رہتے ہیں تو شیطان سب سے پہلے وہاں سے رفوچکر ہوجاتاہے۔ عمرؓ دنیا میں حکومتیں چلانے کے لئے ایسی ایسی اصلاحات کیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے جس میںقابل ذکر Judges, Count, Treasuryاور اسلامی کیلنڈر کی شروعات کیں ۔ اور پورے ملک کے صوبوں میں تقسیم کیا ۔ دنیا کو پولیس کے محکمہ کا نظام دیا۔ Educationکاسسٹم رائج کیا ، باجماعت نظام تراویح شروع کروائی ۔ Militaryکانظم قائم کیا۔ پریس کو متعارف کرایا ۔ اوقاف کامحکمہ قائم کیا اور دین کی تبلیغ کے لئے مسجدوں میں وعظ کاطریقہ شروع کیا۔ اور یہ نصیحتیں کیںکہ جس نے نماز کی حفاظت کی ۔ اس نے اپنے دین کو محفوظ کرلیا اور آدمی کے روزے نماز پر نہ جاؤ بلکہ اس کاقول اورعمل دیکھو ۔ ان خیالات کا اظہار دینی تربیتی اجتماع سے اقبال الدین انجینئر نے مسجد شاہ خاموشؒ میں کیا۔ موصوف نے حضرت عثمان غنی ؓ کی سیرت کے بارے میں کہا کہ آپ ذوالنورین تھے یعنی آپ کے نکاح میں پیارے نبی ﷺ کی دوصاحبزادیاں تھیں ۔ اللہ نے آ پ میں ایسی کوٹ کوٹ کر حیابھری تھی کہ آپ اللہ اور رسول سے حیاکرتے تھے اور فرشتے آپ سے ۔ اپنے وقت کے سب سے زیادہ مالدار اور سخی تھے۔ اقبال الدین انجینئر نے اپنی تقریر کے اختتام موڈ میں حضرت علی ؓ کی ایک وصیت سنائی کہ ’’میں تم کو خدا کاتقویٰ اختیار کرنے اور دنیا میں پھنس نہ جانے کی وصیت کرتاہوں ۔ ہمیشہ حق بات کرنا، اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی وجہ سے اگر کوئی شخص تم پر ملامت کرے تو اس کی ملامت سے نہ ڈرنا، اور بڑائی عقل وادب سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ خاندان ونسب سے ۔ اور اپنی خطا پر شرمند ہ ہونا، خطاؤں کومٹادیتاہے۔