کریم نگر ۔ 13جون ( فیکس ) دفتر جماعت اسلامی ہند مکرم پورہ کریم نگر میں دی اسلامک ویلفیر سوسائٹی کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا ۔ جناب محمد خیرالدین صاحب صدر نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ لوگوں کو سود کی لعنت سے بچانے یہ سوسائٹی قائم کی گئی ہے اور انسان کو زندگی تہن اہم معاملات میں روزگار کیلئے‘ تعلیم کیلئے اور علاج کیلئے ۔ اللہ کے فضل و کرم سے جماعت اسلامی ہند نے یہ سوسائٹی قائم کی ہے ۔ ہماری سوسائٹی سے پروڈکٹیو ورک ہونا چاہیئے ۔ ہمارا پیسہ ایسے کام پر لگے جس سے آدمی خودمکتفی ہو‘ سوسائٹی سے جو پیسہ قرض دیا جارہا ہے آپ کیلئے اجر ہے اور اس کی ترقی کیلئے آپ مشورہ دیں ۔ جناب عبدالسبحان صاحب سکریٹری نے ایک سالہ رپورٹ پیش کی ۔ عادلانہ اور منصفانہ معاشی نظام کے قیام کیلئے ایک چھوٹی سے کوشش جو کہ سال 1979ء میں سرزمین کریم نگر پر کی گئی تھی ۔ الحمد اللہ آج ثمر آور ہوتے جارہی ہے ‘ اس لئے کہ قرآن حکیم میں دولت کے ارتکاز کے بجائے اس کی گردش کی تعلیم دیتا ہے تاکہ معاشرے کے ہر فرد کو معاشی و اقتصادی ثمرات میسر آسکیں اور پھر اسلام معاشرے میں معاشی پالیسی دولت کی گردش کو پورے معاشرے میں عام کرنا چاہیئے تاکہ دولت صرف مالداروں میں گھومتی نہ رہی ‘ امیر روز بہ روز امیر اور غریب دن بدن غریب تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اس مقصد کے نفاذ کیلئے سود کو حرام قرار دیا گیا ‘ زکوٰۃ فرض کی گئی ہے اور صدقات کی تلقین کی گئی ہے ۔ مختلف قسم کے کفاروں کی ایسی صورتیں تجویز کی گئی ہیں جن سے دولت کے بہاؤ کا رُخ معاشرے کے غریب طبقات کی طرف پھر جائے ۔ میراث کا ایسا قانون بنایا گیا کہ ہر مرنے والے کی چھوڑ ہوئی دولت زیادہ سے زیادہ وسیع دائرے میں پھیل جائے اور پھر اخلاقی حیثیت سے بخل کو سخت قابل مذمت اور فیاضی کو بہترین صفت قرار دیا گیا ہے ۔ الغرض اسلام کے عطا کردہ اقتصادی اورمعاشی حقوق کا مقصد معاشرے کے محروم الحیثیت افراد کو بھی ایسے مواقع فراہم کرنا ہے کہ وہ حقیقی معنی میں ایک فلاحی معاشرہ کے شہری کے طور پر زندگی گذار سکیں تاہم معاشی عدم تفاوت ہی لوگوں کی آزمائش اور انہیں نیکی کی راہ اختیار کرنے کی ترغیب دینے کیلئے رکھا گیاہے ۔ کریم نگر کی ایک چھوٹی سے سوسائٹی کے ممبران اسلام کے اقتصادی نظام پر دنیا کی بڑی بڑی مملکتیں جو صرف پانی پر کرورہا ڈالر کا خرچہ اور ہندوستان کا جاری معاشی نظام کا اتھل پھتل ہماری ہی سونچ کا محور ہونا چاہیئے ۔ آج ہم اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے سامنے اقتصادی پالیسی بنانے اور اس کے نفاذ کو عملی جامہ پہنچانے کا مسئلہ ایک چیالنج سے کم نہیں ہے ۔ ملک کے وسائل حیات سے فائدہ اٹھانے کیلئے منصفانہ طور پر سب کو موقع ملے ‘اس بات کو عام کرنا چاہیئے ۔ہندوستان میں دولت جس طرح امیروں میں بٹی ہوئی ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ‘ ان کا کروڑہا کا سرمایہ بیرونی ممالک سوئیز بینکس میں دفینہ کے طور پر رکھا ہوا ہے لیکن ملک کی کمزورہوتی اقتصادی پالیسی کیا رنگ لاتی ہے ۔
آر بی آئی اور دیگر مالیاتی ادارے کیا پروگرام بناتے ہیں ۔ اقتصادی حالت کو بہتر بنانا اور مہنگائی کو کم کرنا ایک سوالیہ نشان ہے ۔ امیدیں اور وعدے کرنا آسان ہوتے ہیں لیکن ان کا پورا کرنا آسان نہیں ہوتا ۔ سوسائٹی میں موجودہ ممبران کی 4500 ہے گذشتہ سال 519 کا اضافہ ہوا اور جو رقم قرض حسنہ ضمانتی/ کفالتی میں مشغول ہے وہ13360850 ہے۔ ہرماہ تقریباً 70/90 ممبرس کو قرض حسنہ ضمانتی/کفالتی اجراء کیا گیا یعنی جو 2013ء تا مئی 2014ء تک 860 لوگوں میں 19996500 روپئے قرض حسنہ منظور کیا گیا ۔ اس کا سالانہ ٹرن اوور 70007000 ( سات کروڑ سات ہزار روپئے) ہے ۔ جناب محمد عبدالقریب حامد لطیفی صاحب ناظم علاقہ وسطی تلنگانہ جماعت اسلامی ہند نے اپنے اختتامی خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے سوسائٹی کے ان احباب کے حق میں دعا کرتاہوں جو سوسائٹی کے حق میں بہترین خدمات انجام دیئے اور دے رہے ہیں ۔ یہ سوسائٹی ہندوستان کی ایک بہت بڑی سوسائٹی ہے ‘ ہماری سوسائٹی ہماری بے لوث خدمت کی وجہ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ سوسائٹی کا ٹرن اوور زیادہ ہوگیا ہے اور کام بہت بڑھ گیا ہے ۔ آپ کو سوسائٹی کے کاموں میں حصہ لینا ہگا جو اس کے مقاصد کی تکمیل کیلئے ضروری ہے ۔ لوگوں کے سرمایہ کو ڈپازٹ کر کے اس سے بھی سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے ۔ قاری عبدالرحیم صاحب کی تلاوت سے پروگرام کا آغاز ہوا اور جناب ڈاکٹر بشیر احمد صاحب نائب صدرسوسائٹی کی دُعاپر اجلاس کا اختتام ہوا ۔