ٹرمپ کے قاصد سعودی میں مدعو
ریاض ۔ 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ نے چہارشنبہ کو صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے خصوصی قاصد جیسن گرین بلاٹ اور مشیر جارڈ کوشنر کو مدعو کیا تاکہ فلسطین اور اسرائیل کے مابین امن مرحلہ کی بات چیت کی جاسکے جس میں نئی مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ یہ ملاقات پرنس محمد بن سلمان نے ایسے وقت کی ہے جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے راکٹس اور مارٹر شلس اسرائیل کی طرف داغے گئے تھے اور اسرائیلی جنگی جہازوں نے غزہ پٹی سرحد پر فلسطینیوں کی اصل حمایتی تنظیم حماس کو نشانہ بنایا تھا جن امور پر گفت و شنید کی گئی ان میں غزہ پٹی سرحد پر انسانوں کو راحت والی امداد پہنچانے کی ضرورت پر اور ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن کی مصالحتی کوشش شامل تھی۔ وائیٹ ہاؤس نے اپنے مختصر بیان میں یہ بات کہی۔ یاد رہیکہ اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن بات چیت سال 2014ء سے تعطل کا شکار ہے۔ ٹرمپ کے متنازعہ ڈسمبر 2017ء میں یروشلم میں امریکی سفارتخانہ کی منتقلی پر امن کی کوششوں کے احیاء کے امکانات پیدا ہوئے ہیں لیکن ٹرمپ کے یروشلم میں امریکی سفارتخانہ منتقلی پر تمام عرب ممالک اور فلسطینیںو نے امریکی عہدیداروں سے تمام تعلقات منقطع کرلئے تھے۔ واضح رہیکہ اسرائیل نے حماس کے ملٹری ونگ ’’ایزداین القصام بریگیڈس پر پہلے سے زیادہ شدت والے فضائی حملے کئے جس میں ظالم اسرائیلیوں نے بزدلی کا ثبوت دیتے ہوئے رات میں حماس کے ملٹری ونگ کو نشانہ بنایا جو کہ فلسطینیوں کی جانب سے دھماکو اشیاء پھینکے جانے کا جواب تھا۔