اسرائیل فلسطینی فٹبالرز کیلئے آسانی پیدا کرے : سپ بلاٹر

ساؤ پاؤلو، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سپ بلاٹر نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فیفا کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے فٹبال کے فلسطینی کھلاڑیوں کی نقل و حرکت پر پابندی نرم کرے۔ برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو میں فیفا کانگریس میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’میں اسرائیل کی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس عمل میں آسانی پیدا کرے اور میں یہ بھی کہوں گا کہ اس سلسلے میں تعاون انتہائی ضروری ہے‘‘۔ صدر فیفا نے کہا کہ گزشتہ سال ماریشس ٹاسک فورس کے قیام کے بعد سے اسرائیل اور فلسطین کی فٹبال اسوسی ایشنز کے تعلقات میں عمومی طور پر بہتری آئی، اور ان کا اصرار ہے کہ اسرائیلی حکومت کو فیفا کے منصوبوں کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔

بلاٹر کے خطاب کے بعد فلسطین فٹبال اسوسی ایشن کے صدر جبریل رجب نے کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف کسی طرح کی تعزیرات لگانے کا نہیں کہتے لیکن ان کے بقول فلسطین کے فٹبال کی حالت زار کا اب مداوا کرنا ہو گا۔ ’’میں ان مشکلات کی وجہ بننے والوں سے کہوں کہ یہ اب ختم کریں اور جو ان مشکلات کا شکار ہیں ان سے کہوں گا کہ فیفا فیملی کا حصہ ہوتے ہوئے وہ ہمت نہ ہاریں۔‘‘ اس کانگریس میں فیفا کے 209 رکن ممالک بشمول اسرائیل کے مندوبین شریک تھے۔ جبریل رجب کی تقریر کے بعد بلاٹر نے اسرائیل کے وفد کو فلسطینی فٹبال اسوسی ایشن کے صدر کے خیالات پر منفی ردعمل ظاہر نہ کرنے پر انھیں سراہا۔ ’’اسرائیلی فٹبال کو ایک طرف نہیں کیا گیا اور میں انھیں کھیل کی روح کے مطابق عمل کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘ گزشتہ ہفتے اسرائیل کی طرف سے فلسطین فٹبال اسوسی ایشن کے ڈپٹی جنرل سکریٹری محمد اماسی کو غزہ سے مغربی کنارے جانے کی اجازت نہ دیئے جانے سے بظاہر یہی نظر آ رہا تھا کہ اسرائیل صورتحال کو مزید بھڑکانا چاہتا ہے۔ اماسی کو مغربی کنارے سے اردن میں داخل ہونا تھا جہاں سے انھیں برازیل میں ہونے والے اجلاس کیلئے سفر کرنا تھا۔ اسرائیلی حکام نے کہا کہ اماسی پر غزہ چھوڑنے پر پابندی تھی کیونکہ انھوں نے سفر سے کم از کم دس روز پہلے درخواست دینے کے قواعد و ضوابط پر عمل نہیں کیا۔