کولکتہ 5ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) مغربی بنگال میں کانگریس کو کارکنوں کے ترک تعلق کا مسئلہ در پیش ہے بعض سینئر کانگریس قائدین نے ریاستی اور مرکزی قیادت سے خواہش کی ہے کہ اس پر قابو پانے کیلئے سنجیدگی سے خود احتسابی کی جانی چاہئے ۔ سینئر کانگریسی قائد مانس بھونیا نے کہا کہ یہ ایک سنگین فکر مندی کا مسئلہ ہے اور اس کیلئے داخلی طور پر پارٹی میں خود احتسابی سخت ضروری ہے۔ خاص طور پر کُل ہند کانگریس اور پردیش کانگریس کو مشترکہ طور پر اس کا تجزیہ کرنا چاہئے۔ سابق صدر مغربی بنگال پردیش کانگریس بھونیا نے جو حال ہی میں کانگریس کے جنرل سکریٹری سی پی جوشی کی جانب سے طلب کئے گئے تھے تا کہ ریاست میں پارٹی امور کا جائزہ لیا جاسکے ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کر کے انہوں نے ریاستی صورتحال کی تفصیلات سے واقف کروایا۔
42 کانگریس ارکان اسمبلی جنہوں نے 2011 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی پارٹی سے ترک تعلق کر کے ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں جبکہ ریاستی صدر یوتھ کانگریس سومک حسین ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔ بھونیا نے کہا کہ جب ہمارے قائد راہول گاندھی نوجوانوں کو اولین اہمیت دے رہے ہیں تو نوجوان قائدین پارٹی سے ترک تعلق کیوں کررہے ہیں؟۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پارٹی سے ترک تعلق کیا جارہا ہے ۔ ریاستی صدر کانگریس ادھیر چودھری نے کہا کہ جو لوگ کانگریس چھوڑ رہے ہیں بنیادی طور پر موقع پرست ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ کانگریس کا کوئی مستقبل نہیں ہے کیونکہ فی الحال پارٹی ایک سخت دور سے گذر رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا صرف بنگال میں نہیں بلکہ تمام ریاستوں میں ہورہا ہے۔ بعض ریاستی قائدین تاہم چودھری کی من مانی کو اس کی وجہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کے سینئر قائدین سے اچھا برتاو نہیں کیا۔