اردو میڈیم اسکولوں میں اساتدہ کی قلت سنگین مسئلہ

ضلع میدک میں 400 جائیدادیں مخلوعہ،طلبہ کی تعلیم شدید متاثر
سنگاریڈی 15 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع میدک کے سرکاری اسکولس بالخصوص اردو میڈیم اسکولس میںاساتذہ کی قلت ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اساتذہ اور طلباء کے تناسب سے اور رائیٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق ضلع میدک میںکم و بیش 400 اردو میڈیم اساتذہ کی ضرورت ہے۔ گذشتہ دو سال سے اساتذہ تقررات سے متعلق ڈی ایس سی منعقد ہوا اور نئی ریاست تلنگانہ کے قیام اور ٹی آر ایس حکومت آنے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ اردو بالخصوص اردو میڈیم اسکولس جونیر کالجس اور ڈگری کالجس کے دیرینہ مسائل کی یکسوئی ہوگی اور نہ صرف انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا بلکہ درکار تعداد میں اساتذہ و لکچررس کی جائیدادوں کو منظور کرتے ہوئے تقررات کا عمل شروع کیا جائے گا تاہم اردو داں طبقہ کی توقعات کے مطابق گذشتہ 5 ماہ میں کوئی تعمیری قدم نہیں اٹھایا گیابلکہ ٹیچرس کی فراہمی کی جگہ کے اسکولس کو ضم کرنے کی اسکیم شروع کی گئی تلنگانہ حکومت نے مخلوعہ اساتدہ جائیدادوں کو پر کرنے اسکولس ریشنالائمیشن معقولیت پسندی کا کام شروع کیا جس کے تحت 20 طلباء سے کم تعداد والے اسکولس کو قریبی اسکول میں ضم کردیا جائے گا اور طلباء تعداد کے تناسب سے زیادہ ٹیچرس ہونے پر اضافی اساتذہ کو ضرورت مند اسکولس پر تعینات کیا جائے گا اس طرح سے اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اسکولس و اساتذہ کی معقولیت پسندی کے باعث ضلع میدک کے 230 سے زائد ایسے اسکولس جہاں پر طلباء کی تعداد 20 سے کم ہے کے بند ہونے یا پھر قریبی اسکولس میں ضم ہونے کا امکان ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق معقولیت پسندی کے عتاب کا شکار ہوکر بند ہونے والے اسکولس کی فہرست میںجنارم منڈل کے موضع نری گوڑا،کنگٹی منڈل مستقر پرائمری اسکول ، نیالکل منڈل کے مواضعات چانکی اور نیگور ،شیوم پیٹ منڈل کے موضع گوڈور کے اردو میڈیم اسکولس شامل ہیں جبکہ ضلع میدک کے تقریبا 10 ایسے اردو میڈیم اسکولس کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر طلباء کی تعداد کم اور اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے ان اردو میڈیم اسکولس کے اضافی اساتذہ کو دیگر ضرورت مند اردو میڈیم اسکولس پر تعینات کیا جائے گا ۔ اردو داں طبقہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معقولیت پسندی کے عمل سے اردو میڈیم اسکولس کو مستثنی قرار دیا جائے چونکہ معقولیت پسندی کے عمل سے اردو میڈیم اسکولس قوی طور پر بند ہوجائیں گے چونکہ مجوزہ اسکولس کے قریب یعنی تین کیلو میٹر دائرے میں کوئی اردو میڈیم اسکول موجود ہی نہیں ہے اگر معقولیت پسندی کے چلتے ان اسکولس کو بند کردیا جائے گا تو پھر اردو داں طبقہ میںاسکول ڈراپ آوٹ کی شرح میںزبردست اضافہ ہوجائے گا حکومت فوری اس کا نوٹ لیتے ہوئے اردو میڈیم اسکولس کو معقولیت پسندی کے عمل سے نا صرف مستثنی قرار دے بلکہ ضلع کے اردو میڈیم اسکولس کے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے اقدامات کرے ضلع میدک میں پرائمری اسکولس کو 255 اکیڈمک انسٹرکٹرس ودیا والینٹرس کی ضرورت ہے جبکہ اس سال حکومت نے صرف 119 اکیڈمک انسٹرکرس پوسٹ منظور کئے مابقی 136پوسٹ بھی منظور کرنے کے علاوہ سال 2006 سے التواء کا شکار اردو میڈیم جائیدادوں سے روسٹر سسٹم کی برخواستگی کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔