ارتھنگ کا شکار اور پانی کی بالٹی میں گرنے سے دو کمسن بچوں کی موت

گھر کے بڑے لوگوں کی مصروفیت سے بچوں پر عدم توجہ کا شاخسانہ
حیدرآباد /21 جون ( سیاست نیوز ) بچوں کی تعلیم و تربیت کے علاوہ ان کا تحفظ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ اسکول جانے والے کمسن بچوں پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ گھر میں رہنے والے شیر خوار اور معصوم بچوں سے لاپرواہی خطرناک نتائجبرآمد ہوسکتے ہیں۔ ان بچوں کی نقل و حرکت کھیل کود پر سخت نظر رکھنے اور خصوصی توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ بہت زیادہ مصروفیت کے بہانے ذرا سی عدم توجہ اور شرارت سے تنگ آکر برتی جانے والی لاپرواہی زندگی بھر کے غم کا سبب بنتی ہے ۔ شہر میں آئے دن اس قسم کے دو علحدہ واقعات ہر خاتون اور گھر میں رہنے والوں کے ہوش اڑا دیں گے جو اکثر کام کے بہانے اور کام کاج میں مصروف رہ کر اپنے گھر میں بچوں کو اکیلا کھیلنے کیلئے ان پر توجہ نہیں دیتی اور نہ ہی ان کی سرگرمیوں پر سخت نظر رکھتی ہے ۔ علاقہ عنبرپیٹ اور کوکٹ پلی میں اس طرح کے دو علحدہ واقعات پیش آئے ۔ ان دلسوز واقعات میں ایک معصوم لڑکا اور ایک معصوم لڑکی جن کی عمریں بالترتیب ڈھائی سال بتائی گئیں ہیں فوت ہوگئیں ۔ عنبرپیٹ پولیس کے مطابق ڈھائی سالہ رحمن جو پٹیل نگر عنبرپیٹ علاقہ کے ساکن شخص محمد احمد کا بیٹا تھا آج صبح اپنے مکان میں کھیلتے کھیلتے گھر میں موجود ٹیبل فیان تک پہونچ گیا ۔ ۔ خطرے سے بے خوف اور اچھے برے کی تمیز سے لاعلم اس معصوم نے خطرہ اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس ٹیبل فیان ارتھنگ آرہی تھی اور اس ارتھنگ کے سبب برقی شاک کی زد میں آکر رحمن شدید متاثر ہوگیا ۔ جس کو فوری طور پر ہاسپٹل منتقل کیا گہاں وہ جانبر نہ ہوسکا ۔ کوکٹ پلی پولیس کے مطابق ڈھائی سالہ انیسہ بیگم جو شمشی گوڑہ ساکن عبداللطیف کی بیٹی تھی یہ لڑکی مکان میں کھیل میں مصروف تھی جو کھیل کے دوران پانی سے بھری ہوئی بکٹ میں گرکر شدید متاثر ہوگئی اور علاج کے دوران فوت ہوگئی ۔ ان واقعات سے والدین بالخصوص خواتین کو سبق سکھینے کی ضرورت ہے ۔ شرارت اور معصومیت کے کھیل سے بے زار ہوکر ان پر توجہ نہ دینا زندگی بھر کے غم کا سبب بن سکتا ہے ۔ دونوں ہی واقعات میں پولیس نے مقدمات درج کرلئے ہیں اور مصروف تحقیقات ہے ۔