اراضی بل پر اپوزیشن کی تجاویز قبول کرنے کیلئے حکومت تیار

نئی دہلی ۔19مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر نتن گڈکری نے نئے اراضی بل پر کسانوں کے اندیشوں کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسا کوئی کام نہیں کرے گی جس سے اُن کے مفادات متاثر ہوں ۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کی تجاویز کو قبول کرنے کیلئے بھی حکومت تیار ہے ۔ آل انڈیا پنچایت پریشد کی جانب سے اراضی حصول یابی بل پر منعقدہ ’’ سمکشھا ادھیویشن ‘‘ میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹ بینک سیاست کی خاطر ملک میں کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم کسانوں کے حق میں ہیں۔ ہماری حکومت ایسا کوئی فیصلہ نہیں کرے گی جس سے کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہو ۔ ہم نے بل میں ایسی تبدیلیاں کی ہیں جو کسانوں کے مفاد میں ہے ۔ اُن کی بازآبادکاری اور نوآبادکاری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ بل کی مخالفت پر اپوزیشن کو تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے نتن گڈکری نے کہا کہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سیاسی فائدہ کیلئے اور اُن کی ووٹ بینک سیاست کیلئے یہ سب ڈرامہ کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کھلے مباحث کی اپیل کی اور ساتھ ہی ساتھ اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ اگر حکومت کی غلطی ثابت کردی جائے تو نہ صرف معذرت خواہی کی جائے گی بلکہ ان کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کانگریس کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مارچ کی قیادت پر بھی تنقید کی اور پوچھا کہ گذشتہ 55سال کے دوران وہ کیا کررہی تھی جب اُسے اقتدار حاصل تھا ۔ اُس وقت کانگریس کو دیہی انفراسٹرکچر کی ترقی کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ اب جب کہ موجودہ حکومت نے دیہی انفراسٹرکچر کی ترقی کا بیڑہ اٹھایا ہے تو اس کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ نئے بل کے متعلق ہم نے دیہی علاقوں میں اراضی کا معاوضہ چار گنا بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی طرح شہری علاقوں میں دوگنی قیمت کردی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بازآبادکاری اور اُن کے ارکان خاندان کو روزگار کی فراہمی بھی یقینی بنائی جارہی ہے ۔ اس دوران اراضی بل پر اپوزیشن کی شدید مخالفت کا سامنا کررہی حکومت نے اپوزیشن پارٹی کے قائدین بشمول سونیا گاندھی اور سماجی کارکن انا ہزارے سے ربط قائم کیا ہے ۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس بل پر کھلے مباحث کیلئے تیار ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ بل کسانوں کے مفاد میں ہے ۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی اور دیگر اپوزیشن قائدین کے علاوہ سماجی کارکن انا ہزارے کو مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ و جہاز رانی نتن گڈکری نے مکتوب روانہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس بل کے تمام پہلوؤں پر بحث کیلئے حکومت تیار ہے ۔ اس بل کو راجیہ سبھا کی منظوری کا انتظار ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے متحدہ طور پر اس بل کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا ہے اور کانگریس کی قیادت میں اس بل کو راجیہ سبھا میں منظور ہونے نہیں دیا جارہا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے احتجاجی مارچ نکالتے ہوئے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو یادداشت پیش کی اور اراضی بل کو’’ مخالف کسان ‘‘ قرار دیا ۔ گڈکری نے کہا کہ اس بل میں کوئی سمجھوتہ نہیںکیا گیا ہے اور یہ مخالف کسان بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں کہا کہ اس بل پر کسی بھی فورم میں بحث کیلئے حکومت تیار ہے ۔