اراضی بل خطرناک ، راجیہ سبھا میں شکست دینا ضروری : پی ایم کے

چینائی 22 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حصول اراضی بل کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیتے ہوئے این ڈی اے کی حلیف پارٹی پی ایم کے نے آج اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ راجیہ سبھا میں اس بل کو شکست دیں۔ پارٹی کے بانی ایس رام داس نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ترمیمات کی تجاویز پیش کی ہے جس کو مسترد کردیا جاتا ہے۔ اس سے کسانوں کو بھی کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ حکومت خطرناک قانون کو بہرصورت منظور کرانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ یہ بل حکومت کے کسان دشمن ہونے کا ٹھوس ثبوت ہے۔

رام داس نے جو مرکزی حکومت کے شدید نقاد ہیں اور مختلف مسائل پر حکومت کو نشانہ بناتے ہیں، الزام عائد کیاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر فینانس ارون جیٹلی چاہتے ہیں کہ ملک میں انتشار پیدا ہوجائے اور یہ لوگ جھوٹے پروپگنڈہ کرتے آرہے ہیں کہ اس بل سے کسانوں کی زندگیوں میں خوشحالی آئے گی۔ مودی یہ کہہ رہے ہیں کہ حصول اراضی بل کی منظوری کے بعد دیہی علاقوں میں صنعتیں قائم ہوں گی۔ اس سے مقامی افراد کی معیار زندگی بہتر ہوگی۔ جیٹلی کا دعویٰ ہے کہ اس سے ملک بھر میں 30 کروڑ روزگار حاصل ہوگا۔ آخر یہ کس طرح ممکن ہے؟ وزیراعظم اور وزیر فینانس جنھوں نے تیقن دیا ہے کہ بل کسانوں کی زندگیوں میں بہاریں لائے گا اس کے لئے انھوں نے ایسا کوئی روڈ میاپ پیش نہیں کیا کہ جس سے واقعی یقین ہوجائے کہ کسانوں کی زندگیوں میں بہار آئے گی۔

رام داس نے کہاکہ اگر مودی یہ تیقن دیں کہ جن کسانوں نے اپنی زمین دی ہے ان کے ارکان خاندان کو روزگار دیا جائے گا اور کمپنیوں میں حصہ داری ملے گی اس کے بعد ہی ہم وزیراعظم کے ارادوں کا خیرمقدم کریں گے۔ حکومت نے حال ہی میں کہا تھا کہ خصوصی معاشی زونس کے لئے 40 فیصد سے زائد اراضی حاصل کرلی گئی ہے ماباقی اراضی آئندہ پانچ سال کے دوران حاصل کی جائے گی۔ ان اراضیات کو نئی صنعتیں قائم کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اگر صنعتوں کے لئے مزید اراضی کی ضرورت ہوگی تو غیر مستعملہ اراضیات کو حاصل کیا جائے گا۔ حکومت کسانوں سے سستے داموں زمینات خرید کر اسے کارپوریٹس کے حوالے کررہی ہے جو رئیل اسٹیٹ کی غرض سے ڈیولپ کرکے کروڑہا روپئے کمارہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور کارپوریٹس کی یہ آرزو ہے کہ کسانوں کو بے زمین کردیا جائے۔