ادلب میں غیرفوجی علاقوں کا تعین عنقریب : اردغان

انقرہ ۔ 24 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کا کہنا ہے کہ انقرہ اور ماسکو مل کر شام میں اْن شدت پسند گروپوں کا تعیّن کریں گے جن کو اِدلب صوبے میں غیر فوجی علاقے سے باہر کیا جائے گا۔روسی اخبار Kommersant میں تحریر کیے گئے اپنے ایک مضمون میں اردغان نے کہا کہ سمجھوتے کے تحت شامی اپوزیشن اْن علاقوں کو برقرار رکھے گی جہاں وہ اس وقت موجود ہے۔ علاوہ ازیں شدت پسند گروپوں کا تعین کر کے ترکی اور روس انہیں مذکورہ غیر فوجی علاقے میں سرگرمیاں جاری رکھنے سے روک دینے پر کام کریں گے۔ اردغان نے "رائے اور ویڑن” کے حوالے سے تینوں ممالک کے درمیان اختلافات کا اقرار کیا۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ماسکو اور تہران کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔دوسری جانب انقرہ کے حمایت یافتہ شامی اپوزیشن گروپوں نے گزشتہ ہفتے اِدلب کے حوالے سے روس اور ترکی کے درمیان دستخط کیے جانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ البتہ بعض دیگر گروپوں نے اس سمجھوتے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے ہتھیاروں اور اراضی پر ڈٹے رہنے کا اعلان کر دیا ہے۔