اخوان کے 183 حامیوں کو سزائے موت

قاہرہ ، 2 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) مصر کی ایک عدالت نے ممنوعہ اخوان المسلمین کے 183 حامیوں کو پولیس ملازمین کو قتل کرنے کے الزامات پر آج سزائے موت سنائی جبکہ حکام نے کٹر اسلام پسندوں کے خلاف اپنی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ ان ملزمین کو اگست 2013 ء میں کرداسا ٹاؤن میں 16 پولیس ملازمین کو ہلاک کردینے میں سرگرم رول ادا کرنے کا مجرم پایا گیا۔ وہ دور اسلام پسند صدر محمد مرسی کی آرمی کی جانب سے معزولی کے بعد بدامنی سے مزین تھا۔ 34 ملزمین کو غیرحاضری میں سزا سنائی گئی۔ مصر نے ملک کے اولین جمہوری طور پر منتخب صدر مرسی کے سیاسی خاتمہ کے بعد سے اپنی جدید تاریخ میں اخوان کے خلاف زبردست مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ ہزارہا اخوان حامیوں کو گرفتار کرتے ہوئے ان پر اجتماعی مقدمہ چلایا جارہا ہے، جو ایسی مہم ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ مصری حکومت منصوبہ بند انداز میں حریفوں کو کچل رہی ہے۔ صدر عبد الفتح السیسی جنھوں نے فوجی سربراہ رہتے ہوئے مرسی کو معزول کیا، وہ اخوان کو بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف اخوان کا کہنا ہے کہ اس نے پرامن تحریک چلائی ہے۔ مرسی کی برطرفی کے بعد سے عملاً سارا ملک بدامنی کا شکار ہے، جس میں حکومت نے مرسی کے حامیوں کو خصوصیت سے نشانہ بنا رکھا ہے۔ اور انھیں بڑی سزائیں دی جارہی ہیں۔