نئی 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام )ایک متنازعہ بل جو آندھرا پردیش میں پولاورم پراجکٹ کی راہ ہموار کرے گا جبکہ تلنگانہ اور سیما آندھرا کے بعض دیہات اور منڈل زیر آب آجائیں گے ،آج لوک سبھا میں منظور کردیا گیا۔ حالانکہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی،بیجو جنتادل اور دیگر سیاسی پارٹیوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ جہاں تک آندھرا پردیش تنظیم جدید، (ترمیمی ) بل کا سوال ہے وہ آرڈیننس کی جگہ لے گا اور اس کو منظور نہ کرنے کی ایک قرار داد پر بحث بھی کی جائے گی۔ ٹی آر ایس کے ارکان ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے اور بیجو جنتادل کے ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے۔ یہ سب بل کی منظوری کی مخالفت کررہے تھے ان کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ یہ ضروری نہیںہے کہ اس قرار داد پر علحدہ مباحث منعقد کئے جائیں ۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید (ترمیمی) آرڈیننس پر مباحث ہوچکے ہیںاور یہ بل اسی آرڈیننس کی جگہ لے گا ۔ اسپیکر نے کہا کہ یہ ایوان میں مسلمہ طریقہ کار کے عین مطابق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل متعلقہ مجلس قائمہ کے سپرد کرنے کے بعد ایوان میںپیش کیاگ یا ۔ سمترا مہاجن نے یہ بھی کہا کہ قانون کی ترمیم عدالت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا فرض ایوان کی کارروائی مناسب انداز میںچلانا ہے ۔ انہوں نے ارکان کے اعتراضات مسترد کردیئے ۔ قبل ازیں ترنمول کانگریس کے رکن سوگٹ رائے اور ٹی آر ایس کے رکن بی ونود کمار نے ایک پوائنٹ آف آرڈر اٹھاتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ خود آرڈیننس ’’دستور کے جذبہ کے خلاف‘‘ہے۔ ٹی آر ایس ارکان نے یہ بھی ادعا کیا کہ آرڈیننس غیر دستوری ہے کیونکہ اسے اس وقت جاری کیا گیا تھا جبکہ علحدہ ریاست تلنگانہ پہلے ہی تشکیل پاچکی تھی ۔ انہوں نے ادعا کیاکہ صدر جمہوریہ کو آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے ریاستی اسمبلی کے نکات نظر سے واقفیت حاصل کرنا تھا ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بل کی منظوری ملتوی کردی جائے ۔ بی جے ڈی قائد بھر تری ہری مہتاب نے کہا کہ ان کی پارٹی اس پراجکٹ کی مخالف نہیں ہے لیکن اس سلسلہ میں ثالثی ضروری ہے کیونکہ ڈیم کی بلندی منظورہ 307 ادی واسی دیہاتوں کو جو اڈیشہ اور چھتیس گڑھ کے ہیں زیر آب کردے گی ۔