اترپردیش کی 82 سالہ ’ریوالور رانی‘

نئی دہلی ۔ 16 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) اسے نوجوانوں کا کھیل سمجھا جاتا ہے اور اس میں مردوں کی شرکت، خواتین کے مقابلے کافی زیادہ رہی ہے لیکن اترپردیش کے گاؤں جوہڑی کی دو خواتین ایسی ہیں جنہوں نے بندوق تھامی ہی 60 سال کی عمر کے بعد لیکن جب تھامی تو زونل اور قومی سطح پر کئی میڈل جیتے۔ 82 سالہ چندرو اور 74 سال کی پریاشی تومر ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور دونوں کی اس کھیل میں شمولیت کی وجہ ان کے پوتے پوتیاں رہے۔ چندرو، پریاشی کی جٹھانی ہیں اور فی الحال سرسا کے کالجوں میں لڑکے لڑکیوں کو نشانے بازی سکھاتی ہیں۔ نشانہ بازی کی شروعات کے بارے میں چندرو بتاتی ہیں کہ ’’میں 65 سال کی تھی جب میں نے پہلی بار بندوق تھامی۔ میں اپنی پوتی شیفالی کو شوٹنگ رینج پر لے کر گئی تھی۔ بچوں کو دیکھ کر میں نے بھی بندوق اُٹھا لی۔ میرا نشانہ درست لگا۔ وہاں موجود انسٹرکٹر اس سے کافی متاثر ہوئے اور انھوں نے میری حوصلہ افزائی کی‘‘۔ جب ان دونوں خواتین نے نشانہ بازی شروع کی تو انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا اور دونوں جب بھی رینج پر مشق کیلئے نکلتیں تو گاؤں کے مرد اُن کا مذاق اڑاتے۔ پریاشی کہتی ہیں، گاؤں کے آدمی ہمیں کہتے تھے کہ ’’یہ بڑھیائیں کارگل میں جائیں گی‘‘۔ تاہم حالات تب بدلے جب ہم نے میڈل جیتے اور ہماری تصاویر اخباروں میں آنے لگیں۔ چندرو اور پریاشی نے 1999ء سے 2013ء کے درمیان ’ویٹرن کیٹیگری‘ میں کئی میڈل جیتے ہیں۔ اس زمرے میں خواتین کم اور مرد نشانے باز زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں نے کئی طلائی، نقرئی اور کانسی کے تمغے جیتے اور پھر دونوں سے ہارنے والے مرد اُن کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لینے سے بھی کترانے لگے۔ کئی بار تو وہ ہارنے کے بعد ان دونوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے سے بھی انکار کردیتے تھے۔ آج ان ہی دونوں کی کوچنگ سے کئی بچے قومی سطح کے نشانے باز بن چکے ہیں۔ چندرو بتاتی ہیں،’’گاؤں کے بچے غنڈہ گردی چھوڑ کر صحیح راستے پر آگئے ہیں‘‘۔