اڈیلیڈ ، 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ کوارٹرفائنل میں دباؤ پاکستان پر نہیں بلکہ آسٹریلیا پر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ آئرلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے دباؤ پاکستانی ٹیم پر تھا کیونکہ آئرلینڈ جیسی ٹیمیں جب ٹسٹ ٹیموں کے خلاف کھیلتی ہیں تو دباؤ وہی زیادہ تجربہ کار ٹیموں پر ہوتا ہے۔ تاہم جب پاکستانی ٹیم کوارٹرفائنل میں آسٹریلیا سے کھیلے گی تو زیادہ دباؤ میزبان ٹیم پر ہوگا۔پاکستانی ٹیم جمعہ کو میدان سنبھالے گی اور اپنی پوری کوشش کرے گی کہ میچ جیتے۔ ناک آؤٹ مرحلے میں آسٹریلیا کے خلاف جیت کے امکانات کے بارے میں مصباح کا کہنا ہے کہ ونڈے میں کوئی اچھا اسپل اور کوئی اچھی اننگز میچ کا نقشہ بدل دیتی ہے اور پاکستان کے پاس بھی ایسا کرنے والے کھلاڑی موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کوارٹرفائنل میں پہنچ جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ’’ہم نے تیر مارلیا ہے۔ یہ وقت تن آسانی کا نہیں ، بلکہ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے اوراگر ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ورلڈ کپ جیتیں تو یہ موقع ہے کہ اگلے تین میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں‘‘۔ پاکستانی کپتان نے وکٹ کیپر ۔ بیٹسمن سرفراز احمد کی آخری لیگ میچ میں آئرلینڈ کے خلاف سنچری کے بارے میں کہا کہ 2007ء کے بعد سے کوئی بھی پاکستانی بیٹسمن ورلڈ کپ میں سنچری نہیں بناسکا تھا۔ لہٰذا، انہوں نے اتوار کے میچ میں دونوں اوپنرز سے کہا تھا کہ سنچری اسکور کرنے کا اچھا موقع ہے۔ بدقسمتی سے احمد شہزاد آؤٹ ہوگئے لیکن سرفراز نے سنچری اسکور کرلی۔ یونس خان کو آسٹریلیا کے خلاف کوارٹرفائنل کے قطعی گیارہ کھلاڑیوں میں شامل کرنے کے بارے میں مصباح نے کہا کہ جو فیصلہ بھی ہوگا وہ ٹیم کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ مصباح نے کہا کہ یونس خان تجربہ کار بیٹسمن ہونے کے ناطے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔