ابھی تو ایک ہی ٹھوکر لگی ہے ظالم کو

ضمنی چناؤ … بی جے پی کو جھٹکا…اپوزیشن کو حوصلہ
پرنب مکرجی … دستوری عہدہ کا لحاظ تو کیجئے

رشیدالدین
’’رنگ میں بھنگ‘‘ یہ محاورہ ان دنوں بی جے پی پر صادق آتا ہے۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت کے چار سال کی تکمیل کے جشن کو ضمنی چناؤں کے نتائج نے نہ صرف پھیکا کردیا بلکہ پارٹی میں ماحول کو غمگین بنادیا ہے۔ اپنی جملہ بازی اور دن کی روشنی میں عوام کو اچھے دن کے سپنے دکھاتے ہوئے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والے نریندر مودی کو گھر میں یعنی اندرون ملک عوامی ناراضگی کا سامنا ہے۔ سیاسی چالوں کے ذریعہ بی جے پی کے چانکیہ کہے جانے والے امیت شاہ کی ہر چال کیوں الٹی پڑنے لگی ہے۔ یہ جوڑی جہاں قدم رکھ دے کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا رہا لیکن چار سال میں صورتحال بدلنے لگی۔ عوام کو اس جوڑی کی حقیقت سمجھنے کیلئے چار سال لگ گئے ۔ مختلف ریاستوں میں لوک سبھا کی چار اور اسمبلی کی 11 نشستوں کے ضمنی چناؤ میں عوام نے بی جے پی کو زبردست جھٹکا دیا ہے ۔ اترپردیش جو بی جے پی کا مقام عروج تھا، وہیں سے زوال کا آغاز ہوا ہے۔ یوگی ادتیہ ناتھ کی گرفت کمزور ہوچکی ہے۔ مودی نے یوگی پر جو انحصار کیا تھا، وہ ڈگمگانے لگا ہے ۔ مودی کا وجئے رتھ جو شمال مشرقی ریاستوں تک بغیر کسی رکاوٹ یا مزاحمت کے پہنچ چکا تھا، اس کو بریک لگتا دکھائی دے رہا ہے۔ اقتدار کے نشہ میں چور مودی نے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ لگایا تھا اور ریاستوں میں اپوزیشن مکت کی بات کہی گئی لیکن عوام نے غرور کا سر نیچا کرتے ہوئے مرکز میں بی جے پی اکثریت کو ختم کردیا ۔ بی جے پی کے بجائے مرکز میں اب این ڈی اے حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں بی جے پی سے لوک سبھا کی 9 نشستیں چھن گئیں۔ 282 کی تعداد گھٹ کر 273 ہوچکی ہے ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام مودی حکومت سے مایوس ہوچکے ہیں اور مودی کا جادو بے اثر ہونے لگا ہے۔ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2019 ء خطرہ کی گھنٹی ہے۔ مودی۔ امیت شاہ جوڑی کی گھر (گجرات) واپسی ہوسکتی ہے۔ اترپردیش میں مودی کے وجئے رتھ کو پہلا بریک اس وقت لگا جب مارچ میں گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا حلقوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یوگی ادتیہ ناتھ اور ان کے ڈپٹی چیف منسٹر کی خالی کردہ نشستیں اپوزیشن کے کھاتہ میں چلی گئیں۔ مودی کو دوسرا جھٹکا کرناٹک میں لگا جب جنوبی ہند میں داخلہ کی تیاری کرلی گئی تھی۔ کانگریس سے واحد بڑی ریاست چھین کر کانگریس مکت بھارت کا خواب دیکھا گیا لیکن رائے دہندوں نے بی جے پی کے خواب پر پانی پھیردیا ۔ اکثریت کے بغیر تشکیل حکومت کی کوشش کانگریس۔ جنتا دل سیکولر اتحاد کے سبب ناکام ہوگئی۔ مودی ۔ امیت شاہ جوڑی کرناٹک کے صدمہ سے ابھر نہیں پائی تھی کہ ضمنی چناؤ میں بی جے پی لوک سبھا کی مزید دو نشستوں سے محروم ہوچکی ہیں۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں اترپردیش ، مہاراشٹرا ، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ میں مایوس کن مظاہرہ سے عوامی رجحان کا اندازہ ہوتا ہے۔ راجستھان ، اترپردیش اور چھتیس گڑھ میں جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی چناؤ ہوں گے۔ کیا بی جے پی اپنی تین ریاستوں کو بچا پائے گی ؟ کیا مودی لہر دوبارہ عروج پر پہنچے گی؟ خود کو ناقابل تسخیر تصور کرنے والے نریندر مودی یہ بھول گئے کہ عوام حقیقی بادشاہ گر ہیں۔

عوام نے اندرا گاندھی جیسی مقبول اور خاتون آہن کو شکست سے دوچار کیا تھا، مودی کیا چیز ہے۔ مودی کی مقبولیت بناوٹی اور سنگھ پریوار کی عطا کردہ ہے۔ ہندوتوا کے چہرہ کے طور پر جارحانہ فرقہ پرست طاقتوں نے مودی کی مارکیٹنگ کی تھی۔ 2014 ء میں مودی نے جو خواب دکھائے تھے ، ان پر عوام نے بھروسہ کیا لیکن چار برس میں اچھے دن تو نہیں آئے لیکن عام آدمی کے گھر سے خوشحالی چھین گئی۔ جملہ بازی اور الفاظ کی بازیگری ہمیشہ کام نہیں آتی۔ عوام جان چکے ہیں کہ مودی محض سپنوں کے سوداگر ہیں ۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی۔ عوام کو کب تک آزمایا جائے گا۔ ضمنی چناؤ کے نتائج مودی حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر ریفرنڈم ہیں۔ لوک سبھا میں تعداد میں اضافہ کے بجائے اکثریت سے محرومی نے پارٹی اور سنگھ پریوار میں مودی اور امیت شاہ کے قد کو کم کردیا ہے۔ لوک سبھا میں اکثریت کیلئے حلیف جماعتوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ ویسے این ڈی اے جماعتوں کے پاس 351 ا رکان ہیں لیکن بی جے پی کل تک اکثریت کے زعم میں تھی ، حلیف جماعتوں کو نظر انداز کیا جارہا تھا۔ موجودہ صورتحال میں پارٹی کے اندر سے آوازیں تیز ہوجائیں گی اور حلیف جماعتیں بھی بھاؤ دکھانا شروع کرسکتی ہیں۔ پارٹی میں جن قائدین کو کنارہ پر کردیا گیا تھا وہ ضمنی چناؤ کے نتائج پر ضرور خوش ہوں گے۔ ہر کامیابی کا سہرا مودی اور امیت شاہ کے سر جاتا رہا۔ اب شکست کی ذمہ داری کون قبول کریں گے ۔ شتروگھن سنہا نے ریمارک کیا کہ کیپٹن کو کامیابی پر جب تالیاں ملتی ہیں، اسی طرح شکست پر گالیوں کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ ضمنی چناؤ کی شکست کو بی جے پی مقامی مسائل سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، اس کا دعویٰ ہے کہ عام انتخابات مقامی مسائل پر نہیں بلکہ وزیراعظم کے انتخاب کیلئے ہوتے ہیں۔ کانگریس اور دوسری اپوزیشن کے پاس کوئی مقبول چہرہ نہیں۔ اگر کوئی چہرہ ہو تو اس کے نام پر تمام جماعتوں کا اتفاق رائے نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ضمنی چناؤ کے نتائج اگرچہ اپوزیشن کیلئے حوصلہ افزاء ضرور ہیں لیکن بی جے پی کو کمزور سمجھنا بھول ہوگی۔ اپوزیشن میں آج بھی مودی کا متبادل نہیں ہے۔ بی جے پی لیڈرشپ ، تنظیمی پھیلاؤ اور کیڈر کے اعتبار سے دوسری جماعتوں سے مضبوط ہے۔ تازہ ناکامیوں سے سبق لیتے ہوئے بی جے پی کو نئی منصوبہ بندی کا موقع ملے گا اور اپوزیشن کو متحد ہونے سے روکنا اس کی اولین ترجیح رہے گی ۔

ضمنی چناؤ کے نتائج سے اپوزیشن کو یہ سبق ملا ہے کہ اگر وہ متحد رہیں گے تو مودی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اترپردیش جو بی جے پی کا گڑھ ہے، وہاں جس انداز میں عوامی فیصلہ سامنے آیا ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ اترپردیش کے عوام فرقہ پرست سیاست سے بیزار آچکے ہیں۔ 2019 ء میں اپوزیشن اگر متحد ہوجائے تو بی جے پی کی شکست یقینی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات میں منتشر اپوزیشن کا بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ 31 فیصد ووٹ کے باوجود ملک میں بی جے پی برسر اقتدار ہے۔ یو پی میں ایس پی اور بی ایس پی اگر اسمبلی انتخابات میں اتحاد کرتے تو یوگی ادتیہ ناتھ کے چیف منسٹر بننے کا خواب کبھی پورا نہ ہوتا۔ بی جے پی کی حلیف جماعتوں کے تیور تبدیل ہوچکے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ 2019 ء تک شیوسینا اور بعض دوسری علاقائی جماعتیں این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرلیں گی۔ بڑھتی مہنگائی کے چلتے رائے دہندوں نے بی جے پی کو سبق سکھایا ہے۔ پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا گیا اور جب کمی کا مرحلہ آیا تو ایک پیسہ کی کمی کی گئی۔ اضافہ تو روپیوں میں کیا گیا ۔ بین الاقوامی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت سے ملک میں پٹرول کی قیمت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف سابق صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے آر ایس ایس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے اپنے طویل بے داغ کیریئر کو داؤ پر لگادیا ہے۔ پرنب مکرجی جنہوں نے ساری زندگی سیکولر طاقتوں کے ساتھ گزار دی اور جن کے نظریات ہمیشہ سنگھ پریوار سے ٹکراتے رہے، انہوں نے کس طرح آر ایس ایس کی تقریب میں شرکت سے اتفاق کرلیا ہے۔ پرنب مکرجی کے اقدام سے یہ ثابت ہوگیا کہ پارٹی بھلے کوئی ہو ، لیکن اس میں آر ایس ایس ہمدرد موجود ہیں۔ پرنب مکرجی نے تمام عہدے، وزارت حتیٰ کہ صدر جمہوریہ کا جلیل القدر عہدہ کانگریس میں رہ کر حاصل کیا لیکن عمر کے آخری حصہ میں آر ایس ایس پسند آرہی ہے۔ پرنب مکرجی کا جارحانہ فرقہ پرست تنظیم سے کیا تعلق ؟ ایسے نازک وقت میں جبکہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی سازش تیار کی گئی اور ملک کا دستور خطرہ میں ہے، پرنب مکرجی کو کم از کم اپنے دستوری عہدہ کی لاج رکھنی چاہئے۔ ملک میں جاری نظریاتی لڑائی کے دوران پرنب مکرجی کے آر ایس ایس ہیڈکوارٹر جانے کی ہرگز تائید نہیں کی جاسکتی۔ ضمنی چناؤ کے نتائج پر لکھنو کے شاعر حیدر علوی کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
ابھی تو ایک ہی ٹھوکر لگی ہے ظالم کو
یہ ایک قسط ہے، سارا حساب تھوڑی ہے