آپ کے چکر میں پھر پڑجائیں کیا

کرناٹک … 2019 ء کا سیمی فائنل
کشمیر میں بے چینی … مذاکرات کار خود لاپتہ

رشیدالدین
عام انتخابات 2019 ء کا سیاسی سیمی فائنل کرناٹک میں کھیلا گیا۔ جس وقت قارئین یہ تحریر پڑھ رہے ہوں گے اگزٹ پول کے نتائج سامنے ہوں گے۔ اگزٹ پول بھلے ہی اگزاکٹ پول نہ ہوں لیکن رائے دہندوں کے رجحان کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ حکمرانی کا تاج کس کے سر جائے گا۔ کرناٹک کو 2019 ء کا سیمی فائنل قرار دینے کی کئی وجوہات ہیں۔ بی جے پی اور کانگریس کے لئے کرناٹک آئندہ انتخابات میں کارکردگی کی کسوٹی ہے۔ نتائج سے اندازہ ہوجائے گا کہ نریندر مودی لہر اور مودی کا جادو کس حد تک برقرار ہے۔ دوسری طرف راہول گاندھی کی قائدانہ صلاحیتیں داؤ پر ہیں۔ پارٹی قائدین کیلئے راہول کی قیادت تسلیم کرنا مجبوری ہے لیکن حلیف جماعتیں انہیں سنجیدہ نہیں لے رہی ہیں۔ پارٹی صدارت سنبھالنے کے بعد کرناٹک پہلا امتحان ہے۔ نریندر مودی کو کامیابیوں کا تسلسل جاری رکھنا ہے جبکہ راہول گاندھی کو شمال مشرقی ریاستوں میں حالیہ شکست کا بدلہ لیتے ہوئے اپنی قیادت اور صلاحیت کو منوانے کا موقع ہے۔ دونوں کیلئے صورتحال کرو یا مرو جیسی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کی قسمت کا فیصلہ ووٹنگ مشینوں میں بند ہوچکا ہے۔ اور 15 مئی کو نتائج کے بعد ملک کی سیاست کو نئی جہت ملے گی۔ کانگریس اگر کرناٹک کو بچانے میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ قومی سیاست کے افق پر دوبارہ ابھر سکتی ہے لیکن اگر بی جے پی نے کانگریس کے قلعہ پر اپنا پرچم لہرادیا تو 2019 ء میں بھی دوبارہ اقتدار کے امکانات اور کانگریس کی شکست کے اندیشوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ جنوبی ہند کے اپنے مضبوط مورچہ کو کھونے کے بعد کانگریس INC یعنی انڈین نیشنل کانگریس نہیں بلکہ PPP ہوجائے گی، یعنی پنجاب ، پوڈوچیری اور پریوار ۔ کرناٹک کے بعد بی جے پی کو راجستھان ، مدھیہ پردیش اور چتھیس گڑھ میں اپنی حکومتوں کا بچانا ہے۔ وہیں سے لوک سبھا انتخابات کے لئے رائے دہندوں کے رجحان کا پتہ چلے گا۔ کرناٹک کے نتائج سے مودی۔امیت شاہ جوڑی کی فکرمندی کی ایک اہم وجہ یو پی اور راجستھان میں ضمنی چناؤ میں پارٹی کی شکست ہے۔

اگر کرناٹک کا فتح ہوجائے تو یہ جوڑی ناقابل تسخیر بن جائے گی اور کوئی چیلنج کرنے والا نہیں رہے گا۔ شکست کی صورت میں پارٹی میں بغاوت کی آوازیں اٹھ سکتی ہیں جو اب تک دبی ہوئی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کو شکست کی صورت میں قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کی کوششیں کامیاب ہوجائیں گی جو 2019 ء میں بی جے پی کیلئے خطرہ ہے۔ 31 فیصد ووٹ سے ملک پر حکمرانی کرنے والی بی جے پی کے حلیف ساتھ چھوڑ سکتے ہیں۔ اترپردیش میں اپوزیشن نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے بی جے پی سے لوک سبھا کی دو نشستیں چھین لی ہے۔ کرناٹک کے عوام فیصلہ سنائیں گے کہ کون نامدار ہے اور کون کامدار ۔ خود کو کامدار ہونے کا دعویٰ کرنے والوں میں چار رسال میں جو مخالف عوام فیصلے کئے ، اس کے اثرات ابھی باقی ہیں۔

مودی نے کانگریس کا قلعہ فتح کرنے پورے لاؤ لشکر کو کرناٹک میں اتار دیا۔ انتخابی مہم کے آخری دن 150 روڈ شو اور ریالیوں میں مرکزی وزراء ، بی جے پی کے چیف منسٹرس اور قومی قائدین نے شرکت کی۔ ہر کسی کو پارٹی سے زیادہ مودی امیج بچانے کی فکر ہے۔ مودی نے اپنی منفرد بولیوں کا سہارا لیکر سیاسی حریفوں پر طنز کے تیر چھوڑے ہیں۔ وزیر اعظم جیسے جلیل القدر عہدے کے وقار کی پرواہ کئے بغیر ایک گلی لیڈر کی طرح مخالفین کا مذاق اڑایا۔ مخالفت میں خود اس قدر بہہ گئے کہ جن تاریخی واقعات کا ذکر کیا ، اس کی سچائی کا پتہ چلانے کی کوشش تک نہیں کی ۔ کرناٹک کے بعض فوجی جنرل اور جنگی سورماؤں کی توہین کا الزام عائد کیا لیکن حقیقت میں جن تاریخوں کا حوالہ دیا گیا وہ غلط ثابت ہوئی۔ ملک کے وزیراعظم کس طرح تحقیق کے بغیر ہی لکھی تحریر کو پڑھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر حقیقت میں وہ تاریخ سے واقف ہوں تو کہنے سے قبل تصدیق ضرور کرلیں گے۔ وزیراعظم کی تعلیم پر تنازعہ برقرار ہے۔ نریندر مودی نے اعلان کیا کہ اسکولی تعلیم کے بعد ان کی کوئی تعلیم نہیں ہوئی لیکن وزیر باتدبیر امیت شاہ نے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں جاری کیں۔ اب کس کو کو سچ مانا جائے، مودی یا امیت شاہ ۔ جس شخص نے پڑھا ہی نہیں امیت شاہ ان کی ڈگریاں تیار کرچکے ہیں۔ ویسے بھی مودی کابینہ میں سمرتی ایرانی کی ڈگریوں پر بھی سوال اٹھ چکے ہیں۔ نریندر مودی کو راہول گاندھی کے وزیراعظم سے متعلق بیان پر بھی اعتراض ہے۔ 2019 ء میں وزیراعظم بننے کی بات راہول گاندھی نے ایک سوال کے جواب میں کہی تھی ، جس پر مودی نے طنز کرتے ہوئے گاؤں میں پانی حاصل کرنے پر جھگڑے کی کہانی سنائی ۔ گاؤں میں جس طرح کوئی دبنگ قطار کو توڑ کر اپنی بالٹی میں پانی حاصل کرتا ہے ، اسی طرح راہول گاندھی نے پارٹی میں سینئرس کی پرواہ کئے بغیر وزیراعظم کے عہدہ پر اپنی دعویداری پیش کردی ۔ نریندر مودی کو وزیراعظم کے عہدہ پر راہول گاندھی کی دعویداری پر اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ مودی دراصل اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے۔ راہول نے اگر وزیراعظم کے عہدہ پر دعویداری پیش کی تو اس میں برائی کیا ہے اور اعتراض والی کیا بات ہے۔ جس سے مودی تڑپ اٹھے۔ کیا وزیراعظم کے عہدہ پر نریندر مودی کا کاپی رائیٹ ہے؟ یا وہ اس عہدہ پر اپنی اجارہ داری سمجھ رہے ہیں ؟ مودی کو کوئی سمجھائے کہ ہندوستان ایک جمہوریت ہے ، بادشاہت نہیں۔ نریندر مودی نے وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے کیلئے ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے کتنے قائدین کو نظر انداز کیا اور آج بھی پارٹی میں وزیر خارجہ سشما سوراج مودی سے سینئر ہیں۔ گجرات کے چیف منسٹر سے اٹھ کر خود مودی نے دبنگ کی طرح قطار میں سب سے آگے اپنی بالٹی رکھ دی اور آج راہول گاندھی پر طنز کر رہے ہیں۔ ویسے بھی وزارت عظمیٰ راہول گاندھی کے خون میں ہے، وہ ملک کے ایسے واحد خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کے تین وزیراعظم رہے۔ جواہرلال نہرو ، اندرا گاندھی اور پھر راجیو گاندھی ، ان میں دو وزرائے اعظم نے ملک کیلئے اپنی جان تک قربان کردی۔ نریندر مودی اور ان کی سرپرست آر ایس ایس نے ملک کیلئے اس طرح کی کوئی قربانی نہیں دی بلکہ آرایس ایس نے انگریزوں کی جاسوسی کی تھی ۔

کشمیر میں ان دنوں صورتحال بے قابو دکھائی دے رہی ہے۔ فوج اور سیکوریٹی فورسس کی جانب سے انکاؤنٹرس کے نام پر ہلاکتیں اور عوامی احتجاج میں معصوم افراد کی موت سے وادی میں دوبارہ بے چینی پھیل گئی ہے ۔ ایسے وقت جبکہ رمضان المبارک قریب ہے، فوجی کارروائیوں اور تلاشی مہم پر روک لگانے کا مطالبہ شدت اختیار کر رہا ہے۔ فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ احتجاجیوں کے ساتھ بھی دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام سیکوریٹی فورسس کی کارروائیوں کے خلاف کیوں احتجاج کر رہے ہیں۔ کوئی بھی امن پسند شہری دہشت گردوں کی تائید نہیں کرسکتا۔ انسانی حقوق تنظیموں نے سیکوریٹی فورسس کی زیادتیوں کی شکایت کی اور مقامی جماعتوں کا الزام ہے کہ بعض واقعات میں شہریوں کو دہشت گرد کا لیبل لگاکر انکاؤنٹر کیا جارہا ہے ۔ اب جبکہ صورتحال کے سدھار کے آثار کم دکھائی دے رہے ہیں، مرکزی حکومت کو مداخلت کرتے ہوئے سیکوریٹی فورسس پر کنٹرول کرنا ہوگا۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے رمضان المبارک میں فوجی کارروائیوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ محبوبہ مفتی دراصل کٹھ پتلی چیف منسٹر ہیں اور بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت کی تشکیل ان کی بھیانک غلطی ثابت ہوئی ۔ فوج ، پولیس اور انتظامیہ ہر کسی کو زعفرانی رنگ میں رنگ دیا گیا ہے۔ بھولے بھالے عوام موجودہ حالات میں بعض ملک دشمن طاقتوں کے آلۂ کار بننے پر مجبور ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محبوبہ مفتی بی جے پی سے ناطہ توڑ کر نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ساتھ ملک کر حکومت تشکیل دیں تاکہ وادی میں اعتماد بحال کیا جاسکے ۔ جو کچھ بھی واقعات پیش آرہے ہیں ، وہ وادی میں ہیں جہاں پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کا غلبہ ہے جبکہ جموں میں جہاں بی جے پی کا کنٹرول ہے، وہاں کمسن لڑکی کی عصمت ریزی اور قتل کا شرمناک واقعہ پیش آیا۔ وادی کی صورتحال کے بگاڑ کیلئے بی جے پی ذمہ دار ہے۔ ایسے وقت مرکزی حکومت کے مذاکرات کار کہاں روپوش ہوگئے، جنہیں حکومت نے گزشتہ سال کشمیر میں تمام فریقین سے بات چیت کیلئے مقرر کیا تھا ۔ ایک دو مرتبہ کشمیر کے دورہ کے بعد مصالحت کار کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور اب تو ملک تو چھوڑیئے خود کشمیر کے عوام اور قائدین مصالحت کار کے نام کو بھول گئے ہیں۔ عوام مذاکرات کار کا نام اور پتہ جاننا چاہتے ہیں۔ قارئین کی اطلاع کے لئے مذاکرات کار سابق ڈائرکٹر انٹلیجنس بیورو دنیشور شرما ہیں جو حالات سے عاجز آکر شائد روپوش ہوچکے ہیں۔ حامد بھنساولی نے کیا خوب کہا ہے ؎
کھاچکے ٹھوکر دوبارہ کھائیں کیا
آپ کے چکر میں پھر پڑجائیں کیا