حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست (سیاست نیوز) آندھراپردیش حکومت کی جانب سے بجٹ برائے مالیاتی سال 2014-15 ء میں اقلیتی بہبود کیلئے صرف 371 کروڑ روپئے مختص کرنے پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے مسلم ارکان اسمبلی نے سخت احتجاج کیا۔ بجٹ کی پیشکشی کے بعد ارکان اسمبلی محمد مصطفیٰ (گنٹور ایسٹ) ، جلیل خاں (وجئے واڑہ ویسٹ) ، امجد باشاہ (کڑپہ) اور عطار چاند باشا (کدری، اننت پور) نے تلگو دیشم حکومت پر اقلیتوں سے دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں بلند بانگ دعوے کئے تھے لیکن بجٹ کی پیشکشی کے ساتھ ہی چندرا بابو نائیڈو کا اصلی چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ ارکان ا سمبلی نے کہا کہ 371 کروڑ روپئے آندھراپردیش کے 13 اضلاع میں محیط اقلیتی آبادی کیلئے انتہائی ناکافی ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی ، سکھ اور پارسی طبقہ کیلئے تعلیمی و معاشی ترقی سے متعلق اسکیمات کا آغاز اس بجٹ سے ممکن نہیں۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ اقلیتوں سے متعلق موجودہ اسکیمات کے بارے میں حکومت نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ محمد مصطفیٰ نے کہا کہ بجٹ میں دکان ، مکان اور روشنی جیسی اسکیمات کا ذکر کیا گیا
لیکن اسکیمات کی تفصیلات اور اس کے لئے بجٹ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی جانب سے اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں شروع کی گئی اسکیمات کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بجٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔ وائی ایس آر کانگریس کے رکن اسمبلی نے کہا کہ اقلیتی طلباء کو اسکالرشپ اور فیس بازادائیگی کے سلسلہ میں 300 کروڑ سے زائد کی رقم درکار ہوگی، پھر کس طرح حکومت اقلیتوں کی بھلائی کی اسکیمات پر عمل آوری کرسکتی ہے۔ وائی ایس آر کانگریس ارکان اسمبلی نے کہا کہ وہ بجٹ پر مباحث کے دوران حکومت پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ موجودہ بجٹ کو کم از کم دوگنا کردیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں دعوے کرنے والے چندرا بابو نائیڈو کا یہ امتحان ہے کہ وہ اقلیتوں کی بھلائی کے سلسلہ میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔