بیدر21 جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ڈپٹی کمشنر پی سی جعفر نے ضلع پنچایت کی جانب سے کے ڈی بی میٹنگ کے دوران ایوان کو واقف کروایا کہ گذشتہ دنوں ضلع میں غیر موسمی بارش اور دیگر آفات سماوی کی وجہ سے کسانوں کی تیار فصلوں کو جو نقصان ہوا تھا اور مرکزی حکومت کی جانب سے مقررہ ٹیم نے یہاں کا دورہ کر کے مرکزی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی جس کی بناء پر مرکزی حکومت نے 12 کروڑ منظور کرتے ہوئے فی الوقت ریاستی حکومت کو اس ضمن میں 9 کروڑ روپئے جاری کرچکی ہے اور یہ رقم ضلع کو موصول ہوتے ہی اس کی تقسیم شروع کردی جائے گی قاعدہ کے مطابق فی ہیکٹر کسانوں کی چار ہزار روپئے امداد فراہم کی جائے گی۔ کہا کہ ضلع میں 28 ہزرا کسانوں کو امداد کی ضرورت ہے انہوں نے ضلع پنچایت کے ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ اس بارے میں کسانوں کو ذہن سازی کرتے ہوئے ان کو بینک میں اکاونٹ کھولنے کی صلاح دیں کیونکہ قانون کے مطابق امدادی رسم کسانوں کے بینک کھاتوں میں راست طور پر جمع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اس ضمن میں مزید یہ بھی بتایا کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے مزید امداد فراہم کی جاتی ہے ایسی صورت میں کسانوں کی امدادمیں اصافہ ہوسکتاہے اور اس بارے میں ریاستی حکومت کو تمام حالات سے واقف بھی کروایا گیا ہے۔ انہوں نے زرعی شعبہ کے تمام محکمہ جات کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ میں فوری طور پر سرگرم ہوجائیں اور متعلقہ تعلقہ جات میں کسانوں کو امداد فراہم کرنے کیلئے کام شروع کردں اجلاس میںمحکمہ زراعت کی جانب سے بتایا گیا کہ اندازہ ہے کہ ضلع بیدر میں 25 جون تک مانسون پوری طرح سے سرگرم ہوجائے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 3 جون کو مانسون بیدر میں آچکا ہے لیکن ابھی اس کے سرگرم ہونے میں وقت درکار ہے یہ بھی واقف کروایا گیا کہ اس سال بارش کا تناسب گذشتہ سال سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ جوائنٹ ایگری کلچرل آفیسر نے مزید بتایا کہ ضلع میں کسانوں کی جانب سے سویا بیچ کی کافی مانگ بڑھ گئی ہے جس کی بناء پر ضلع میںکسانوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے 25 ہزار کنٹل تخم اسٹاک کرلیا گیا ہے چھوٹے اور درمیانی درجہ کے کسانوں کو فی ہیکٹر ایک پاک تخم فراہم کیا جائے گا۔