پرتھ ۔ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کرکٹ ٹیم کا کل یہاں کھیلے جانے والے مقابلہ میں 4 مرتبہ کی چمپیئن آسٹریلیا کے خلاف سخت ترین امتحان متوقع ہے۔ افغانستانی ٹیم جس نے ورلڈ کپ میں گذشتہ مقابلہ کے دوران اسکاٹ لینڈ کو شکست دیتے ہوئے آئی سی سی ورلڈ کپ میں تاریخ کی پہلی کامیابی حاصل کرلی ہے جوکہ رواں ٹورنمنٹ میں تاحال سب سے نمایاں نتیجہ ہے لیکن کل یہاں واکا میں کھیلے جانے والے مقابلے کیلئے استعمال ہونے والی وکٹ پر کافی اچھال اور رفتار موجود ہے نیز ان حالات میں مچل جانسن اور مچل اسٹارک کافی خطرناک بولر ثابت ہوسکتے ہیں۔ شاید اسی مقابلہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئی سی سی کے چیف ایگزیکیٹیو ڈیویڈ رچرڈسن نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ٹورنمنٹ میں اسوسی ایٹ ٹیموں کے مظاہروں سے وہ مطمئن ہیں لیکن ان ٹیموں کیلئے سخت امتحان آگے موجود ہے۔ افغانستان ٹیم نے تاحال بہتر مظاہرہ کیا ہے لیکن ایک سے زائد مرتبہ مقابلہ میں بہتر موقف میں رہنے کے باوجود اسے ناکامی برداشت کرنی پڑی۔ جیسا کہ سری لنکا کے خلاف 51/4 کے مستحکم موقف میں رہنے کے باوجود مہیلا جئے وردھنے کو سنچری بنانے کا موقع فراہم کرتے ہوئے افغانستان کی ٹیم نے ناکامی برداشت کی ہے۔