آسام پنچایت نتخابات

ترنمول کانگریس آسام کے بنگالی اکثریتی علاقوں میں امیدوار کھڑا کریگی

کلکتہ 14نومبر (سیاست ڈاٹ کام) 30جولائی کو این آر سی کی رپورٹ آنے کے بعد بنگالیوں کی حمایت میں کھل کر جارحانہ رویہ اختیار کرنے والی ترنمول کانگریس آسام میں دسمبر کے مہینے میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔آسام میں پارٹی کے آبزرور ریاستی وزیر فرہاد حکیم نے کہا کہ ترنمو ل کانگریس کیلئے حالات سازگار ہیں۔ ممتابنرجی کے کابینہ میں شہری ترقیات کے وزیر فرہاد حکیم نے یکم نومبر کو آسام کے تین سوکھیا ضلع میں مارگئے پانچ بنگالیوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔گوہاٹی میں تین سوکھیا ضلع میں مارے گئے پانچ آسامیوں کیلئے منعقد تعزیتی پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے فرہا دحکیم نے کہا کہ پنچایت انتخابات کے ساتھ ہی آسام میں میں ترنمول کانگریس کا سفر شروع ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم این آر سی کی فہرست سے باہر ہوچکے بنگالی اور تین سوکھیا میں مارے گئے لوگوں کے نام پر انتخاب لڑا جائے گا۔ ترنمول کانگریس کے ذرائع کے مطابق بنگالیوں کی اکثریت والے علاقے میں امیدواروں کو کھڑا کیا جائے گا۔ترنمول کانگریس یونٹ کی جانب سے فرہاد حکیم کے ویڈیو کو پھیلایا جارہا ہے ۔آسام میں پنچایت انتخابات دو مرحلے 5اور 9دسمبر کو ہوگا۔12دسمبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔15اور 19دسمبر کو پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ فرہاد حکیم کے آسام دورے کے دوران ترنمول کانگریس کے مقامی لیڈروں نے پنچایت انتخابات کی مہم اور تیاریوں کاجائزہ لیا۔فرہاد حکیم نے کہا کہ ہمارا پیغام واضح ہے کہ ہم نے سی پی ایم کے 34سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کیا ہے اور بی جے پی کے ساتھ بھی ایسا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جیسے کے ساتھ تیسا کرنے کو ہم تیار ہیں۔آسام میں ترنمول کانگریس کے ریاستی ممبر ظہیر الاسلام نے کہا کہ ہم نے پنچایت انتخابات کے بعد لوک سبھا انتخابات میں بھی حصہ لیں گے۔ مغربی بنگال بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش نے کہا کہ اڑیسہ میں بھی پنچایت انتخابات میں ترنمول کانگریس نے حصہ لیا تھا مگر کارکردگی بہت ہی مایوس کن تھا۔آسام میں بھی ترنمول کانگریس کی کوئی تنظیم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس آسام میں تشدد پھیلانے اور لوگو ں کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔خیال رہے کہ آسام میں این آر سی کی رپورٹ آنے کے بعد ترنمو ل کانگریس کے کئی لیڈران نے ممتا بنرجی کے جارحانہ رویہ کی وجہ سے پارٹی چھوڑ دیا ہے ۔ تاہم گزشتہ چند مہینوں میں ترنمول کانگریس نے بنگالیوں کی اکثریت والے علاقے میں اپنی تنظیمی قوت کو مضبوط کیا ہے ۔یہ باورکرانے کی کوشش کی ہے کہ این آر سی میں شامل نہیں ہوسکے 40لاکھ افراد کے ساتھ ترنمول کانگریس ہے ۔