پٹنہ 23 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) راشٹریہ جنتادل نے آج اپنے مدھے پورہ کے رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو کو نوٹس وجہ نمائی جاری کی اور ان پر مخالف پارٹی سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے 15 دن میں جواب دینے کی ہدایت دی ہے ۔ پپو یادو پر راشٹریہ جنتادل کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کے علاوہ ان پر پارٹی سربرا ہ لالو پرساد یادو کے خلاف بیان جاری کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے ۔ آر جے ڈی کے نیشنل پرنسپل جنرل سکریٹری رام دیو بھنڈاری نے یہ نوٹس پپو یادو کو جاری کی جسے بعد میں میڈیا کیلئے بھی جاری کیا گیا ۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آر جیڈی نے فرقہ پرست طاقتوں سے بہار کو بچانے نتیش کمار حکومت کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پپو یادو نے پارٹی ارکان اسمبلی سے جنتادل یو کے خارج شدہ لیڈر و سابق چیف منسٹر جیتن رام مانجھی کی تائید کرنے کی اپیل کی ۔ پپو یادو پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے یوکی شکتی نامی ایک تنظیم کے پروگرام میں اجازت کے بغیر لالو پرساد یادو کی تصویر کا استعمال کیا تھا ۔ پپو یادو نے حال ہی میں سوال کیا تھا کہ پارٹی میں لالو کے جانشین کون ہونگے ۔ لالو پرساد نے فوری جواب دیا تھا کہ ان کے فرزند ہی ان کے جانشین ہونگے ۔ اس نوٹس میں رکن پارلیمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ اندرون پندرہ دن جواب داخل کریں۔