نئی دہلی۔19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے بشمول مغربی بنگال میں ایک راہبہ کی عصمت ریزی ’’فرقہ وارانہ زہر‘‘ کا نتیجہ ہے جو آر ایس ایس نے پھیلایا ہے جس نے نریندر مودی حکومت کا ایجنڈہ طئے کیا ہے۔ سی پی آئی ایم آج کہا کہ ایسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے اتحاد اور سماجی ہم آہنگی کو خطرہ درپیش ہے۔ آر ایس ایس کی جڑیں حکومت کی ہر شعبہ میں پھیل گئی ہیں۔ یہی فرقہ وارانہ زہر اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی وجہ ہے۔ یہ راست طور پر شہریوں کے بنیادی حقوق سے تعلق رکھتا ہے جو دستورِ ہند نے فراہم کئے ہیں۔ دستور ہند کے بموجب ہندوستان ایک سیکولر، جمہوری ملک ہے۔ سی پی آئی ایم کے قائد سیتا رام یچوری نے سی پی آئی ایم کے ترجمان ’’پیپلز ڈیموکریسی‘‘ میں اداریہ تحریر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ تازہ ترین واقعہ مغربی بنگال میں ایک راہبہ کی اجتماعی عصمت ریزی کا قابل مذمت واقعہ تھا۔ اس کا لحاظ کئے بغیر کہ وسیع پیمانے پر اس علاقہ میں اس کے خلاف برہمی پھیلی ہوئی ہے اور احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ کوئی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتِ حال کتنی سنگین اور خطرناک ہوگئی ہے۔ ملک کے عوام کی سماجی ہم آہنگی متاثر ہوگئی ہے اور اس پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے تحریر کیا کہ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے مبینہ طور پر نریندر مودی کی میعاد کا گزشتہ 9 ماہ کے دوران تعین کیا ہے اور انہوں نے کہا کہ اجتماعیت کے اطمینان پر ان کی میعاد کا انحصار ہوگا۔ آر ایس ایس نے مودی حکومت کے ایجنڈہ اور کارکردگی کا تعین کیا ہے۔ بی جے پی صرف آر ایس ایس کا سیاسی شعبہ ہے، اور کچھ نہیں۔ ایک طرف فرقہ پرست ملک کے سیکولر، جمہوری سرچشموں کو خشک کردینا چاہتے ہیں، دوسری طرف ہندوستانی جمہوریت کو ایک متعصب اور جنونی ’’ہندو راشٹر‘‘ میں تبدیل کردینا چاہتے ہیں۔