نیپئر ۔ 18 جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی کپتان مہیندر سنگھ دھونی نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں ٹیم میں زیادہ تجربات کرنے سے انکار کیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہاکہ ورلڈ کپ سے پہلے اُن کے کھلاڑیوں کے لئے یہ ایک اچھا تجربہ ہوگا ۔ دھونی نے کل ہونے والے پہلے ونڈے سے پہلے کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ کیا صحیح ہوتا ہے ۔ گریگ چیپل دور کے بعد سے ہم نے تجربات سے کنارہ کرلیا ہے ۔ ہم بہت زیادہ تبدیلی نہیں کرتے ہیں ۔ کچھ کھلاڑیوں کو موقع دیں گے اور ہمیں اُمید ہے کہ وہ اس کا فائدہ اُٹھاکر بہتر سے بہتر مظاہرہ کریں گے ۔ انھوں نے یوراج سنگھ کے نہ ہونے سے بیٹنگ کے شعبہ میں پائے جانے والے تذبذب کے بارے میں کسی بھی رائے سے انکار کیا اور کہا کہ سریش رائنا کو چوتھے نمبر پر اُتارا جائے گا یا نہیں اس کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ۔ چونکہ آسٹریلیا کے خلاف اکتوبر میں کھیلی گئی سیریز میں اس نمبر پر وہ ناکام رہے تھے ۔
انھوں نے کہا کہ یہ سیریز کھلاڑیوں کیلئے تجربات حاصل کرنے کا بہتر موقع ہوگا ، کیونکہ اگلے سال ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہی منعقد ہوگا ۔ بولنگ کے شعبہ میں ٹیم میں کچھ نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے ۔ اُن کے مطابق یہاں کافی تیز ہوائیں چلتی ہیں اور الگ الگ حالات میں آپ کو اپنے کھیل پر کڑی محنت کرنی ہوتی ہے ۔ ہندوستانی کپتان نے مزید کہا کہ اُن کیلئے یہ ایک اچھا احساس اور تجربہ ہوگا کیونکہ ہمارے پاس ورلڈ کپ کیلئے ایسے کھلاڑی تیار ہوجائیں گے جو ان حالات میں بھی کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف نیوزی لینڈ کے کپتان برینڈن میک کلم نے انتباہ دیا ہے کہ ہندوستان کو پہلے ونڈے میں اتوار کو جارحانہ اور تیز بولنگ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
نیوزی لینڈ کے پاس میشل میک کلین ناگن ، ٹم ساؤتھی ، کائیل ملس ، ایڈم ملنے اور جیمس نشم کی شکل میں پانچ شاندار اور تیز گیندباز ہیں ۔ میک کلم نے میچ سے پہلے پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم چو طرفہ اور جارحانہ انداز میں بولروں کو اُتاریں گے لیکن پریکٹس کے بعد ہی کسے موقع دیا جائے اس کا فیصلہ کیا جائے گا ۔ تاہم انھوں نے یہ واضح کردیا کہ پہلے میچ میں ہندوستان کو جارحانہ بولنگ کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ انھوں نے کہا اگر ہمیں تیز وکٹ ملتی ہے تو ہم ایڈم ملنے کو اُتار سکتے ہیں۔ یہ نوجوان ہیں اور دھیرے دھیرے تجربہ حاصل کررہے ہیں ۔ حالات کے موافق ہونے پر انھیں موقع دیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ اُن کے پاس کائیل ملس اور ٹم ساؤتھی کا بھی آپشن موجود ہے جو نئی گیند سے کافی سودمند ثابت ہوں گے ۔ کھیل کے پہلے مرحلہ کی شروعات سے ہی نمبر چار ہندوستان کی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ آسٹریلیا کے خلاف سریش رائنا نے اس نمبر پر بیٹنگ کی تھی لیکن مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے اُنھیں ورلڈ کپ سے پہلے ان حالات میں پانچویں یا چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے اپنی اننگز کو طول دینا یا چوتھے نمبر پر وکٹ پر موجود رہنا ہوگا ۔
وہیں ناقص مظاہرہ کی وجہ سے یوراج سنگھ کو ٹیم سے باہر کیا جانا بھی رائنا کیلئے خطرہ کی گھنٹی سمجھی جارہی ہے ۔ اپنی بولنگ اورچست فیلڈنگ کی وجہ سے بھلے ہی وہ ونڈے ٹیم کیلئے بہتر کھلاڑی ہوں لیکن اُن کا پہلا کام رن بنانا ہوگا۔ اُنھوں نے پچھلے سال اکتوبر سے اب تک 9مقابلوں میں صرف 207 رنز بنائے ہیں۔ انھیں یہ خیال رکھنا ہوگا کہ امباٹی رائیڈو اور اسٹورٹ بنی بھی ٹیم میں داخلے کی دہلیز پر ہیں۔ خاص کر اگر رائنا پانچویں یا چھٹے نمبر پر بیٹنگ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو بنی بھی لوورآڈر میں بہتر مظاہر ہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بنی تیز گیندبازی کرتے ہوئے مخالف ٹیم کے بیٹسمینوں کو پریشان کرسکتے ہیں ۔
اس مقام کے لئے یوراج سنگھ انتظامیہ کی پہلی پسند تھے اور یہی وجہ ہے کہ سنچورین میں جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ونڈے میں اجینکا ریہانے کی جگہ اُنھیں ترجیح دی گئی تھی ۔ ریہانے کو اتوار کو چوتھے نمبر پر اُتارا جاسکتا ہے ۔ تیز گیندبازی میں ایشانت شرما اور محمد سمیع جنوبی افریقہ والا مظاہرہ برقرار رکھنا چاہیں گے ۔ جبکہ بھونیشور کمار ، ایشور پانڈے اور ورون ارون بھی اُن کا ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔ ہندوستان پانچ بولروں کو لے کر میدان پر اُترسکتا ہے حالانکہ اصل مقابلہ اسپین بولنگ کا ہے ۔ آر اشوین کو ٹسٹ ٹیم میں رویندر جڈیجہ سے اپنی جگہ واپس لینے کی ضرورت ہے ۔ یہ ونڈے سیریز دونوں کے بیچ مقابلے کے بھی ہوں گی ۔ نیوزی لینڈ کے لئے بھی یہ سیریز مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنے کے اعتبار سے اہم ترین سیریز ہو گی ۔ اس کے پاس بیٹسمینوں اور ہر فن مولا کھلاڑیوں کی کمی نہیں ۔ وہ چھوٹے میدانوں اور ناسازگارموسم کافائدہ اُٹھاکر ہندوستان کو ابتداء ہی میں دباؤ میں ڈالنا چاہے گی ۔ کپتان برینڈن میک کلم نے خبردار کیا ہے کہ وہ چار تیز گیندبازوں کو لے کر میدان میں اُتر سکتے ہیں ۔ کیوی بولنگ کوچ شین باؤنڈ اس سیریز کو دوراندیشی سے دیکھ رہے ہیں اور اُن کی نظریں اگلے سال ہونے والے ورلڈ کپ پر لگی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ ہمیں کوارٹر فائنل یا سیمی فائنل میں ہندوستان کے خلاف کھیلنا پڑسکتا ہے لہذا ہمیں اُس کے مطابق ہی حکمت عملی بنانی ہوگی ۔