میرپور 16 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی 20 میں ہندوستانی ٹیم کا کل مقابلہ سری لنکا سے ہونے والا ہے ۔ ٹورنمنٹ سے قبل مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے ٹیم انڈیا کے حوصلے پست ہیں جبکہ سری لنکا ایشیا کپ میں کامیابی اور حالیہ مظاہروں سے پرجوش دکائی دیتی ہے ۔ حالانکہ ہندوستان کے لئے اس ٹورنمنٹ میں اصل مقابلے 21 مارچ کو روایتی حریف پاکستان کے خلاف شروع ہونگے لیکن کل کے مقابلہ سے ہندوستان کو ٹیم میں تبدیلیوں کے ذریعہ کھلاڑیوں کو موجودہ حالات سے ہم آہنگ کرنے کا موقع مل سکتا ہے ۔
کل ہونے والے وارم اپ مقابلے سے ہندوستانی ٹیم کو تمام 15 کھلاڑیوں کو آزمانے کا موقع مل سکتا ہے ۔ جہاں بلے بازوں کو تمام حالات میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا موقع مل سکتا ہے وہیں بولرس کو بھی اپنے کپتان کو مطمئن کرنے کا موقع دستیاب رہ سکتا ہے ۔ ہندوستانی کھلاڑیوں کو اس ٹورنمنٹ سے قبل جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے علاوہ ایشیا کپ میں بھی ٹیم ناکام رہی تھی اور اب پانچ ماہ کے وقفہ کے بعد ٹیم انٹرنیشنل ٹونٹی 20 کرکٹ کھیل رہی ہے ایسے میں کھلاڑیوں کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ حالات سے بہت جلد خود کو ہم آہنگ کرلیں۔ اس میچ کے نتیجہ کا حالانکہ ٹورنمنٹ پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور کھلاڑیوں کو آزمایا جائیگا تاہم جو بات قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ ٹیم انڈیا کی اوپننگ جوڑی کون ہوسکتی ہے ۔
ونڈے انٹرنیشنلس میں شکھر دھون اور روہت شرما باقاعدہ جوڑی ہیں تاہم یہ بات ذہن نشین رکھی جائیگی کہ سفید گیند کے خلاف ونڈے میچس میں روہت شرما کو مشکلات پیش آئی ہیں۔ ٹوئنٹی 20 میں کھلاڑیوں کو زیادہ وقت لیتے ہوئے خود کو سیٹل کرنے کا موقع نہیں رہتا ۔ اجنکیا رہانے نے انڈین پریمئیر لیگ میں راجستھان رائلس کیلئے اچھی شروعات کی ہے اس لئے انہیں یہ موقع دیا جاسکتا ہے ۔ اجنکیا رہانے ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف آخری میچ میں بھی اچھا مظاہرہ کرچکے ہیں جس سے انہیں اوپن کرنے کیلئے بھیجنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس ٹورنمنٹ میں ٹیم انڈیا میں یوراج سنگھ اور سریش رائنا بھی واپسی کر رہے ہیں ۔
سریش رائنا کو ایشیا کپ کیلئے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا ۔ تاہم انہیں ٹوئنٹی 20 کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ وہ ہندوستان کے واحد بلے باز ہیں جنہوں نے انٹرنیشنل ٹوئنٹی 20 میں سنچری اسکور کی ہے ۔ کپتان دھونی بھی ٹورنمنٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے فارم میں واپسی کی جدوجہد کرینگے جبکہ ویراٹ کوہلی بھی پاکستان میچ سے قبل فارم حاصل کرنا چاہیں گے ۔ سری لنکا کے خلاف وارم اپ میچ سے دونوں بلے بازوں کو انٹرنیشنل کرکٹ میں کارکردگی کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا ۔ امباٹی رائیڈو اور اسٹیورٹ بنی اپنی کارکردگی سے کپتان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرینگے ۔ ویراٹ کوہلی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے زیادہ انٹرنیشنل ٹوئنٹی 20 میچس نہ کھیلے ہوں لیکن ہمیں آئی پی ایل کا تجربہ ضرور حاصل ہے ۔
اس میچ میں خاص طور پر ہندوستانی بولنگ پر توجہ رہے گی ۔ محمد سمیع حالانکہ کامیاب بولر ہیں لیکن وہ آخری اوورس میں مہینگے ثابت ہوسکتے ہیں۔ بھونیشور کمار اور موہت شرما بھی ٹاپ کلاس بلے بازوں کیلئے زیادہ مسئلہ پیدا نہیں کرپائے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ورون آرون کو موقع مل سکتا ہے ۔ ہندوستان کیلئے روشی چندرن اشون اور رویندر جڈیجہ کی بولنگ اہمیت کی حامل رہیگی ۔ سری لنکا اپنی حالیہ کامیابیوں سے پرجوش ہے جس نے ایشیا کپ جیتا ہے اور سری لنکا میں کھلاڑیوں کے معاوضہ کا مسئلہ بھی حل ہوتا جا رہا ہے ۔ نوجوان بلے باز دنیش چنڈیمل اچھا کھیل رہے ہیں اور انہیں مہیلا جئے وردھنے اور کمار سنگاکارا کی رہنمائی حاصل ہے ۔ بولنگ کے شعبہ میں بھی لاست ملنگا کی قیادت میں دوسرے بولرس اچھا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے خلاف کامیابی سے ٹیم کے حوصلے مزید بلند ہوسکتے ہیں۔