مودی حکومت کے خلاف تحریک … اپوزیشن میں اعتماد کی کمی
پارلیمنٹ سے بی جے پی انتخابی مہم
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملوگے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
رشیدالدین
نریندر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو آخرکار شکست ہوگئی۔ تحریک کی شکست ویسے تو پہلے سے طئے تھی لیکن برسر اقتدار پارٹی نے اپوزیشن کو ناکام بنانے کیلئے کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ تلگو دیشم ، کانگریس اور دیگر پارٹیاں خود بھی نتیجہ سے واقف تھیں۔ چار برسوں میں پہلی مرتبہ نریندر مودی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا اور مودی نے اپنی شاطر سیاسی چال کے ذریعہ اپوزیشن کو سیاسی فائدہ کا موقع نہیں دیا۔ اجلاس کے پہلے دن سے حکومت نے ہر مسئلہ پر مباحث کیلئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے اپوزیشن کو احتجاج کا موقع نہیں دیا ۔ جس طرح گزشتہ سیشن میں اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کو قبول کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کی تھی، اس مرتبہ ایسا کچھ سیاسی کھیل نہیں دیکھا گیا۔ اسپیکر کی جانب سے تحریک فوری قبول کرنے اور تیسرے دن مباحث مقرر کرنے کے فیصلہ نے اپوزیشن کو حیرت میں ڈال دیا ۔ اپوزیشن کو یقین نہیں تھا کہ ان کی تحریک اس قدر آسانی سے قبول کرلی جائے گی لیکن بی جے پی نے اپنی اکثریت کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور آئندہ عام انتخابات کی مہم کے آغاز کے طور پر پارلیمنٹ کو استعمال کرنے کیلئے فوری مباحث مقرر کیا۔ عدم اعتماد کی تحریک حکومت کو گرانے کی طاقت بھلے نہ رکھتی تھی لیکن ملک کے حالات پر حکومت کو آئینہ دکھانے میں مددگار ثابت ہوئی ۔ جس حکومت کو واضح اکثریت حاصل ہو، باوجود اس کے اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تو اس کا مقصد عوامی مسائل کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کریں۔ تحریک کی پیشکشی کے سلسلہ میں اپوزیشن کے مسائل اور موضوعات مختلف رہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں ہے۔ تحریک کی پیشکشی سے قبل اپوزیشن نے کوئی مشترکہ حکمت عملی تیار نہیں کی ۔ منتشر اپوزیشن کس طرح بی جے پی کا مقابلہ کر پائے گی ۔ تحریک پر تمام سیاسی جماعتوں کا اصلی چہرہ عوام میں بے نقاب ہوگیا۔ بی جے پی میں رہ کر روزانہ مودی کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے عوام کی واہ واہی لوٹنے والے سورما بھی ایوان میں بھیگی بلی بن گئے ۔ این ڈی اے کے بعض حلیف جو حکومت کی پالیسیوں کو نشانہ بنا رہے تھے ، وہ پارلیمنٹ میں حکومت کے ساتھ کھڑے دکھائی دیئے ۔ غیر کانگریس اور غیر بی جے پی بعض جماعتوں نے غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرلیا ۔ الغرض اپوزیشن کی متحدہ حکمت عملی اور صف بندی نہیں تھی ۔ تحریک کے مسائل اور موضوعات بھی مختلف تھے۔ اصل تحریک تو تلگو دیشم نے پیش کی جس کا مطالبہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف کا ہے۔ تلگو دیشم کی اس تحریک کے پس پردہ خصوصی موقف کے حصول سے زیادہ وائی ایس آر کانگریس کے صدر جگن موہن ریڈی کا خوف ہے جو ریاست گیر پد یاترا کے ذریعہ عوامی تائید اور ہمدردی حاصل کرچکے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کو خصوصی موقف کا خیال چار برسوں تک کیوں نہیں آیا ، جب ان کی پارٹی این ڈی اے اور مرکزی حکومت میں شامل تھی، چار برس تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔ مرکزی وزارت میں تلگو دیشم وزراء اور آندھراپردیش کابینہ میں بی جے پی وزراء شامل رہے۔ اس وقت ناانصافیوں اور ریاست کی تقسیم کے وقت کئے گئے وعدوں کا خیال نہیں آیا۔ عوامی ناراضگی اور آئندہ الیکشن میں شکست کے خوف سے بی جے پی سے اتحاد توڑنے اور تحریک عدم اعتماد کا ڈرامہ کیا گیا۔ تلگو دیشم تنہا تحریک پیش کرتی تو درکار تعداد نہ ہونے پر مسترد کردی جاتی۔ سماج وادی پارٹی، آر ایس پی ، سی پی آئی اور سی پی ایم نے تلگو دیشم کی تحریک کی تائید کی ۔
کانگریس اور این سی پی نے علحدہ نوٹس پیش کی ۔ کانگریس کو تحریک کی پیشکشی کیلئے یو پی اے میں شامل تمام جماعتوںکی تائید حاصل نہ ہوسکی ۔ انتخابات سے عین قبل تحریک عدم اعتماد کی آڑ میں اپوزیشن کو مودی حکومت کو نشانہ بنانے کا موقع ہاتھ لگ گیا ۔ تلگو دیشم کو خصوصی موقف کے نام پر آندھراپردیش میں اپنا امیج بچانا ہے۔ کانگریس کے سابق صدر سونیا گاندھی نے تحریک کے حق میں عددی طاقت کی موجودگی کا دعویٰ کیا جو مضحکہ خیز ثابت ہوا۔ گزشتہ چار برسوں میں کانگریس مختلف ریاستوں میں اقتدار سے محرومی کے بعد بڑی علاقائی جماعت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ حال ہی میں کرناٹک سے بھی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا لیکن جنتا دل سیکولر کی بیساکھیوں پر حکومت کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ اس قدر ٹھوکریں کھانے کے باوجود کانگریس نئی صف بندی اور حکمت عملی کی تیاری میں غفلت کا شکار ہے۔ کانگریس کی کمزوری کا نتیجہ ہے کہ نریندر مودی۔امیت شاہ جوڑی ملک میں ناقابل تسخیر دکھائی دے رہی ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ بی جے پی نے ملک کو ہر شعبہ میں زوال سے دوچار کردیا لیکن اپوزیشن عوام کا اعتماد جیتنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے بجائے اپوزیشن کو عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی فکر کرنی چاہئے ۔ اگر اپوزیشن نہیں سدھرے گی تو 2019 ء میں دوبارہ اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنا پڑے گا ۔ راہول گاندھی پہلے اپنا گھر درست کریں اور پھر اپوزیشن کا اعتماد حاصل کریں۔ ملک کے سلگتے مسائل پر پارلیمنٹ میں گرما گرم مباحث کے دوران راہول گاندھی نے بھی حکومت پر حملہ کا کوئی موقع نہیں گنوایا۔ انہوں نے امن و ضبط کی صورتحال ، ہجومی تشدد ، خارجہ پالیسی اور دیگر مسائل پر مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی ۔ تقریر کے اختتام پر راہول نے وزیراعظم نریندر مودی سے ان کی نشست تک پہنچ کر ملاقات کرتے ہوئے خیر سگالی اور اخلاق کا مظاہرہ کیا۔ ہندوستان کی مٹی میں نفرت کا جذبہ نہیں ہے جس کا اظہار راہول گاندھی نے مودی سے ملاقات کے ذریعہ کیا۔ ہندوستان میں یہ جمہوریت کے روشن مستقبل کی علامت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن انتخابی ماحول میں بھلے ہی ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں لیکن بعد میں ایک دوسرے کا احترام اور سیاسی مخاصمت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک کی ترقی کیلئے کام کرنا جمہوریت کی آن بان اور شان ہے۔ نریندر مودی نے جوابی خیر سگالی کا اس قدر گرمجوشی سے مظاہرہ نہیں کیا جو انہیں کرنا چاہئے تھا ۔ شفقت کے ساتھ انہوں نے راہول کی پیٹھ تھپتھپائی لیکن بہتر ہوتا کہ وہ اپنی نشست سے اٹھ کر انہیں گلے لگاتے۔ تحریک عدم اعتماد پر نریندر مودی کے موقف اور رویہ سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ وسط مدتی چناؤ کے موڈ میں ہیں۔ وہی لفاظی ، الفاظ کی تک بندی ، اچھے دن کا وعدہ ، جاگتی آنکھوں کے خواب اور وعدوں کے ذریعہ عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھائی گئی جس کیلئے مودی مہارت رکھتے ہیں۔
ملک میں ہجومی تشدد کے واقعات پر سپریم کورٹ کی ناراضگی کے بعد مرکزی حکومت نے ریاستوں کو سخت کارروائی کے سلسلہ میں ہدایات جاری کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ریاستوں کو اشرار کے خلاف کارروائی کیلئے پابند کیا گیا اور جہاں کہیں بھی اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں ، وہاں کے چیف منسٹرس سے مرکز ربط میں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کی ناراضگی تک مرکز کیوں خواب غفلت کا شکار تھا۔ ویسے بھی مرکز اور بیشتر ریاستوں میں بی جے پی برسر اقتدار ہے، لہذا ہدایات جاری کرنے کا بہانہ محض ضابطہ کی تکمیل ہے۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں ہجومی تشدد کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن مرکز نے اپنے ایک بھی چیف منسٹر کی سرزنش نہیں کی۔ لاء اینڈ آرڈر ریاستوں کا اصلاح ہے اور مرکز کو کسی ہدایت کی چنداں ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ ریاستی حکومتیں امن و ضبط کی برقراری میں کبھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ اترپردیش میں اخلاق کی ہلاکت سے لیکر حالیہ دنوں بیدر میں اعظم کے بے رحمانہ قتل تک مرکز خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی جو ہر چھوٹے مسئلہ پر ٹوئیٹ کرنے یا من کی بات میں تذکرہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ہجومی تشدد پر انہوں نے زبان نہیں کھولی۔ شاید اس لئے کہ جارحانہ فرقہ پرست طاقتیں ان سرگرمیوں کے ذریعہ بی جے پی کیلئے انتخابی ماحول تیار کر رہے ہیں۔ کیا نریندر مودی کا من اتنا کٹھور ہوچکا ہے کہ انہیں بے قصوروںکی موت کا کوئی افسوس تک نہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد قانون سازی پر بحث کا آغاز ہوگیا ۔ کسی بھی جرم کو محض قانون سازی سے روکا نہیں جاسکتا۔ اس کیلئے حکومت کے مصمم ارادے اور عزم کی ضرورت پڑتی ہے۔ خاطیوں کے خلاف کارروائی میں حکومتوں کی ناکامی کی تازہ مثال کٹھوا اجتماعی عصمت ریزی معاملہ ہے۔ کشمیر میں محبوبہ مفتی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی گورنر نظم و نسق نے کٹھوا کے ملزمین کے وکیل کو حکومت کا ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کرتے ہوئے ملزمین کا کیس لڑنے پر تحفہ دیا ہے ۔ مقدمہ کی سماعت اور گواہوں پر جرح کے سلسلہ مختلف اطلاعات آرہی ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت اور ریاستوں میں ان کا نظم و نسق جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو کھلی چھوٹ دے چکا ہے۔ ملک میں امن و ضبط کی صورتحال اس قدر ابتر ہوچکی ہے کہ یونان کے حالات کی طرف پیش قدمی دکھائی دے رہی ہے۔ کشمیر میں صورتحال بہتر بنانے میں ناکامی کے بعد بی جے پی نے راہ فرار اختیار کرلی۔ ملک کے ان حالات کے باوجود آر ایس ایس نے زمینی سطح پر بی جے پی کے حق میں جو مہم شروع کی ہے، اس سے بی جے پی کا موقف ابھی بھی مستحکم دکھائی دے رہا ہے۔ کمیونسٹ جماعتیں کیرالا تک محدود ہوگئی اور علاقائی جماعتیں بی جے پی کو پس پردہ غلامی کا اقرارنامہ لکھ رہی ہیں۔ شہود عالم آفاقی کا یہ شعر موجودہ حالات پر صادق آتا ہے ؎
اس کو ہوئی نہ اپنے خد و خال کی فکر
آئینہ دوسروںکو دکھانے میں رہ گیا