کینبرا ۔ 2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) یکے بعد دیگرے دو فتوحات کے بعد آئرلینڈ کی ٹیم کل یہاں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ کے اپنے آئندہ مقابلے میں جنوبی افریقہ کا سامنا کررہی ہے اور اس مقابلہ میں آئرلینڈ کی ٹیم کو حریف کپتان اے بی ڈی ولیرس کے سخت امتحان کا سامنا رہے گا۔ آئرلینڈ جس نے ورلڈ کپ کے اپنے افتتاحی مقابلہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہمالیائی اسکور کا کامیاب تعاقب اور پھر متحدہ عرب امارات کے خلاف سنسنی خیز مقابلہ میں فتوحات حاصل کرتے ہوئے رواں ورلڈ کپ کے آئندہ ناک آوٹ مرحلہ میں رسائی کی اپنی امیدوں کو مستحکم کرلیا ہے لیکن کل کھیلے جانے والے مقابلہ میں آئرلینڈ کا اصل امتحان حریف کپتان ڈی ولیرس کی بے رحمانہ بیٹنگ کے خلاف متوقع ہے کیونکہ ڈی ولیرس نے گذشتہ مقابلہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف صرف 66 گیندوں میں 162 رنز کی انتہائی برق رفتار اننگز کھیلی ہے جس میں 17 چوکے اور 18 چھکے شامل ہیں۔ سڈنی میں کھیلے گئے اس مقابلہ سے قبل جنوبی افریقی ٹیم جو کہ ورلڈ کپ میں خطاب کیلئے پسندیدہ ٹیم ہے لیکن اسے ٹورنمنٹ کے دوسرے مقابلہ میں دفاعی چمپیئن ہندوستان کے خلاف غیرمتوقع طور پر 130 رنز کی شرمناک شکست برداشت کرنی پڑی۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 257 رنز کی کامیابی نے جنوبی افریقہ کی ورلڈ کپ مہم کو دوبارہ صحیح سمت گامزن کردیا ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گئے مقابلہ میں ڈی ولیرس کی عالمی ریکارڈ اننگز کے علاوہ اس کے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں میں شامل ہاشم آملہ، فاف ڈپلیسی اور ریلی راسو نے نصف سنچریاں اسکور کرتے ہوئے اپنے شاندار فام کا اشارہ دیا ہے۔ دوسری جانب آئرلینڈ کی ٹیم کے مظاہرہ بھی ٹورنمنٹ میں قابل ستائش ہیں، جیسا کہ اس نے ورلڈ کپ میں اپنے افتتاحی مقابلہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 304 رنز کا ہمالیائی نشانہ 25 گیندیں قبل حاصل کرتے ہوئے 4 وکٹوں کی انتہائی شاندار کامیابی حاصل کی جس کی بدولت ٹیم کے کھلاڑیوں کے حوصلے انتہائی بلندی پر موجود ہیں۔ اس مقابلہ میں آئرلینڈ کے بیٹسمینوں میں پال اسٹرلنگ (92)، ایڈ جوائس (84) اور نیل اوبرے نے ناقابل تسخیر 79 رنز کی اننگز کھیلتے ہوئے ٹیم کو ایک غیرمتوقع اور شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا۔ جنوبی افریقہ کے لئے تشویش کا واحد پہلو اس کے سرفہرست فاسٹ بولر ڈیل اسٹین کے غیرمعیاری مظاہرے ہیں کیونکہ وہ دنیا کے نمبر ایک فاسٹ بولر ہونے کے علاوہ جنوبی افریقہ کیلئے بولنگ شعبہ کا سب سے خطرناک ہتھیار ہے لیکن ٹیم میں دوسرے درجہ پر شامل کئے جانے والے لیگ اسپنر عمران طاہر نے 9 وکٹیں لیتے ہوئے اسٹین سے کہیں زیادہ بہتر مظاہرے کئے ہیں۔ آئرلینڈ جس نے 2007ء ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ شرکت کرتے ہوئے ناک آوٹ مرحلہ تک رسائی حاصل کی تھی لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف تاحال کھیلے گئے تمام تین مقابلوں میں اسے ناکامی برداشت کرنی پڑی ہے۔ آئرلینڈ کے کوچ ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑی فل سمنس نے ان عزائم کا اظہار کیا ہیکہ جس طرح ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کی ٹیم نے ایک ہمالیائی اسکور کا تعاقب کیا ہے ، اس کے بعد وہ کسی بھی ٹیم کو شکست دینے کیلئے تیار ہے اور امید ہیکہ کل کھیلا جانے والا مقابلہ ایک دلچسپ میچ ہوگا ۔