ڈبلن ۔ 14 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آئرش پارلیمنٹ میں جمعرات کو پارلیمنٹ میں اسقاط حمل کو قانونی حیثیت دینے کیلئے بل منظور کیا گیا جس کی رو سے اسقاط حمل کو جائز قراردیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم لیوورڈکر نے اس موقع کو انہوں نے تاریخی واقعہ قرار دیا۔ قانون کے مطابق 12 ہفتوں کی مدت حمل یا پھر حاملہ کے جان کو خطرہ کی صورت میں حمل کو ساقط کروایا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جنین کی بے قاعدگی پیدائش سے قبل یا پھر پیدائش کے 28 یوم بعد ہو تو حمل کو ساقط کروایا جاسکتا ہے۔ وزیراعظم نے تمام خواتین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ اس قانون سازی میں مدد کئے ہیں۔ اس سے قبل ماہ مئی میں ایک اس کی تائید میں ریفرنڈم کروایا گیا تھا کہ آیا دستوری پابندی کو کالعدم قرار دیا جائے۔ چنانچہ 66 فیصد ووٹس اس قانون کے کالعدم قرار دینے کی تائید میں ڈالے گئے۔ 1980ء سے تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار خواتین برطانیہ کو حمل ساقط کروائے جانے پر مجبور ہوئی تھیں جہاں پر اس عمل کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ آئرلینڈ میں کیتھولک فرقہ کی اکثریت ہے اور چرچ کے اثرات بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس قانون کے بعد یوروپ میں صرف مالٹا ہی واحد ملک ہے جہاں پر اسقاط حمل غیرقانونی عمل قرار دیا گیا ہے۔