چندی گڑھ۔ /21اکٹوبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) منوہر لال کھتر آر ایس ایس کے ایک کمر مرتبہ والے لیڈر تھے جو خاموشی سے اپنی خدمات انجام دینے میں ماہر تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ بی جے پی میں انہیں سخت جانفشانی سے کام کرنے اور کام کروانے والے لیڈر کا درجہ حاصل ہوا کیونکہ وہ اپنی خدمات میں کسی بھی نوعیت کی احمقانہ حرکت برداشت نہیں کرتے تھے۔ 60سالہ کھتر جو کسی زمانہ میں ڈاکٹر بننے کے خواہاں تھے، اپنی تنظیمی صلاحیتوں کیلئے مانے جاتے ہیں۔ وہ ایک صاف ستھری شبیہ کے حامل شخص ہیں اور انہیں وزیر اعظم نریندر مودی سے قریب تر تصور کیا جاتا ہے جن کے ساتھ ماضی میں انہوں نے کام کیا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ کھتر ہنوز غیر شادی شدہ ہیں اور گذشتہ 40 سال انہوں نے آر ایس ایس کی خدمت میں صرف کردیئے۔ اپنی پارٹی کے لئے انہوں نے ماضی میں کئی کامیاب مہمات چلائیں۔ انہیں زبردست سیاسی سوجھ بوجھ کا حامل شخص قرار دیا جاتا ہے۔ وہ پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے اور قسمت ان پر کچھ اس طرح مہربان ہوئی کہ پہلی بار میں ہی انہیں وزیر اعلیٰ کے عہدہ تک پہنچادیا۔ 2014ء میں انہوں نے ہریانہ میں الیکشن مہم کمیٹی کے صدر نشین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔1996ء میں انہوں نے نریندر مودی کے ساتھ کام کرنا شروع کیا جو اسوقت ہریانہ کے انچارج تھے۔ 2002ء میں منوہر لال کی ریاست جموںو کشمیر میں پارٹی کا
الیکشن انچارج بنایا گیا۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ 2014ء میں نریندر مودی نے ہریانہ کے کرنال حلقہ انتخاب سے 4اکٹوبر کو اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ جہاں سے منوہر لال کھتر کو زبردست کامیابی ملی۔ کھتر کا تعلق ایک معمولی کسان گھرانے سے ہے۔ ان کے آباء و اجداد 1947ء میں ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان سے یہاں ہجرت کرکے آئے تھے اور ہریانہ کے ضلع روہتک کے ایک موضع نندانا میں آباد ہوگئے تھے۔ کھتر کے والد اور دادا گزارے کیلئے جو کام مل جاتا کرلیتے تھے اور لوگ انہیں ان کے ابتدائی زمانے میں لیبر کہا کرتے تھے۔ محنت کرتے کرتے انہوں نے بالآخر اتنا پیسہ جمع کرلیا کہ ایک دوکان کھول لی اور نندانا میں ہی منوہر کھتر کی 1954ء میں پیدائش ہوئی۔ آج وہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ ہیں جو یقینا ایک محنت کش طبقہ سے تعلق رکھنے والے شخص کیلئے کسی کارنامہ سے کم نہیں۔ آر ایس ایس کے پرچارک سے وزیر اعلیٰ کے عہدہ تک ان کا سفر طویل ضرور ہے لیکن سبق آموز بھی ہے۔