ممبئی ؍ بنگلور ، 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مودی حکومت پر آج شدید تنقید میں کانگریس نے برسراقتدار بی جے پی کے انتخابی نعرہ ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ 26 مئی کو جس دن نریندر مودی نے وزیراعظم کے طور پر حلف لیا تھا، ’اچھے دن‘ کی برسی منانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملک بھر میں مجموعی طور پر زرعی بحران کے ماحول میں مودی کے بیرونی سفر کے جواز پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ مودی حکومت کو اس کے ’’جھوٹے‘‘ وعدوں پر اقتدار کے پہلے سال کی 26 مئی کو تکمیل کے موقع پر مہاراشٹرا کانگریس نے کہا کہ وہ اُس روز مرکز کے خلاف احتجاج منعقد کرے گی اور اسے ’اچھے دن‘ کی برسی کے طور پر منایا جائے گا۔ مرکز کو نشانہ بناتے ہوئے صدر ایم پی سی سی اشوک چوان نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ پارٹی مودی حکومت کے خلاف ریاست گیر احتجاج منعقد کرے گی کہ اس نے انتخابات جیتنے کیلئے عوام سے ’’جھوٹے‘‘ وعدے کئے اور ان کی تکمیل کیلئے گزشتہ ایک سال میں اقدامات نہیں کئے۔ اس مدت میں حکومت قیمتوں پر قابو پانے میں ناکام ہوئی، پیداوارِ روزگار میں بہتری نہیں آئی، کالا دھن واپس نہیں لایا گیا جس کے بل پر ہر شہری کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ روپئے جمع کئے جانے والے تھے، زرعی پیداوار کی اقل ترین امدادی قیمت میں اضافہ نہ ہوا، دہشت گردی سے ٹھوس طور پر نہیں نمٹا گیا، نیز پاکستان اور چین سے بھی چناؤ سے قبل کے وعدوں کے مطابق معاملہ نہیں ہوا۔ اپوزیشن کانگریس نے مودی حکومت کا اس مضحکہ اڑایا اور مزید چوٹ کی کہ ملک بھر میں عمومی زرعی بحران کے موقع پر وزیراعظم مودی بار بار بیرونی سفر پر ہوتے ہیں۔ پارٹی ترجمان ابھیشک سنگھوی نے بنگلور میں اور اے آئی سی سی سکریٹری بھکت چرن داس نے رائے پور میں پریس کانفرنس کو بتایا کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کسانوں کو درپیش مسائل کو ’نظرانداز‘ کررہی ہے۔