’’ زبان ، جنت یا جہنم میں لے جاسکتی ہے ‘‘

نظام آباد:27؍ مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جمعیت اہلحدیث نظام آباد کی زیر نگرانی ایک روزہ دینی و تربیتی اجتماع جامع مسجد سلفیہ اہلحدیث نظام آباد میںمنعقد ہوا۔ اجتماع کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا ۔ عبید اللہ فیضی کا خطاب شروع ہوا ۔ انہوں نے جماعت کی اہمیت و افادیت پر زور دیا۔ بعدازاں عبدالخالق عمری نے خطاب کرتے ہوئے زبان کی حفاظت سے متعلق کہہ رہے تھے کہ اسلام میں چغلی اور غیبت قطعاً ممنوع ہے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا کہ جو انسان مجھے چیزوں کی حفاظت کی ضمانت دیگا میں اسے جنت کی ضمانت دوں گا ۔ ایک تو یہ کہ دو جبڑوں کے درمیان کی چیز یعنی زبان اور دوسری یہ کہ دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز یعنی شرمگاہ کی حفاظت ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور کے لوگ اپنی زبان کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ فحش گوئی ، گالی گلوج چغلی و غیبت اور جھوٹ لوگوں کی پہنچان بن گئی ہے۔ جبکہ اللہ نے ہمیں زبان اس لئے دی تاکہ ہم دعوت دین کا کام کریں ۔ اللہ نے ہمیں زبان اس لئے دی تاکہ لوگ ہماری زبان کے شر سے محفوظ رہے ۔

اللہ نے ہمیں زبان اس لئے دی تاکہ ہم لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائیں اور برائی سے روکیں ۔ لیکن اس کے برعکس آج ہم اسی زبان سے جھوٹ بولتے ہیں جو سچ اور حق بیان کرنے کیلئے دی گئی تھی ۔ اسی زبان سے برائیاں بیان کرتے ہیں ہمیں جو بھلائی کا حکم دینے کیلئے دی گئی تھی ۔ اسی زبان سے لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں جس سے محفوظ رکھا جاتا تھا ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ اپنی زبان کو پکڑتے ہیں اور زار و قطار روتے ہیں ۔ لوگوں نے پوچھا ابو بکر ؓ اتنا کیوں روتے ہو کہا ’’ یہی زبان ہے جو مجھے جنت یا جہنم میں لیجاسکتی ہے‘‘ ۔ شیخ نے اپنے خطاب کا اختتام معراج کے ایک واقعہ پر کیا کہ کچھ لوگ اپنے ناخنوں سے اپنے جسموں کو نوچ رہے ہیں پوچھا گیا یہ کون ہیں ؟ آپ ﷺکو بتلایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو غیبت کرتے تھے ۔ اس اجتماع کی آخری کڑی کو عبدالخالق محمدی نے سنبھالی اور انہوں نے دلوں کی اصلاح و پاکیزگی کے متعلق بڑی مفید باتیں پیش کئے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آج مسلمان کیوں پریشان ہے؟ کیوں مظلوم ہے ، کیوں ذلیل و خوار ہے ، کیوں مجبور و لاچار ہے۔ ان پریشانیوں کا سبب کیا ہے وجہ کیا ہے ، وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم گنا ہ گار ہیں۔ ہم توبہ و استغفار نہیں کرتے ۔ ہم اللہ سے معافی طلب نہیں کرتے ۔ جب کہ محمد رسول ﷺدن میں سو سو مرتبہ معافی مانگا کرتے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دل کی تین بڑی برائیاں ہیں ۔ (۱) عمل کم کرتے ہیں اور اخلاص نہیں ہوتا(۲) اختلافات کا شکار ہیں ( ۳) ہمارے اندر فخر اور گھمنڈ ہے ۔ قول اور فعل کا تضاد ہے۔ صحابہ میں ایسا نہیں تھا وہ جو کہتے تھے اس پر عمل بھی کرتے تھے ۔

آج اسلام کے نام پر بڑی بڑی تنظیمیں وجود میں آرہی ہے۔ دین کا کام بڑے پیمانے پر اور بڑے شور و زور سے کیا جارہا ہے اور لوگ اسلام میں جو ق در جوق داخل ہورہے ہیں لیکن اخلاص کے عدم وجود سے وہ تنظیمیں تباہ و برباد ہورہی ہیں۔ کیونکہ وہ ریا و نمود کا مظاہرہ کررہے ہیں آج کے لوگ اسلام کی پانچ بنیاد پر اگر عمل کر بھی رہے ہیں تو وہ بھی ریاکاری سے خالی نہیں ہے۔ مال اور عہدہ کی خاطر لوگ آپس میں اختلاف کرتے ہیں موصوف اپنا خطاب تکبر کے بیان پر ختم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تکبر تمام برائیوں کی جڑ ہے اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا کہ جس کسی کے اندر رائی کے دانہ کے برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائیگااور انہوں نے کہا کہ لوگوں کو حقیر سمجھنا تکبر ہے۔ اکٹر کر چلنا تکبر ہے، کپڑا زمین سے گھسیٹتے ہوئے چلنا تکبر ہے ۔ فقراء و مساکین اور غرباء کی مجلس سے دوری تکبر ہے اور موصوف نے یہ بھی کہا کہ علم حاصل نہ کرنا بھی تکبر ہے۔ سلام نہ کرنا بھی تکبر ہے۔ اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا خاص لوگوں کو سلام کرنا قیامت کی نشانی ہے اللہ کے فضل و کرم سے اجتماع کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا ۔