’’تم نے میرے بیٹے کو مار ڈالا ‘‘

جنیوا۔ 30 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر عباس خان کی ماں فاطمہ خان آج جنیوا میں کانفرنس کے مقام تک پہونچ گئیں اور روتے ہوئے برہمی کے عالم میں کہا کہ ’’تم نے میرے بیٹے کو مار ڈالا‘‘۔ شام کے متحارب گروپس ، اقوام متحدہ کی ثالثی کے ذریعہ جنیوا میں چھٹے دن مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھے کہ فاطمہ خان کانفرنس کے اس مقام تک پہنچ گئیں۔ واضح رہے کہ ان کے 32 سالہ فرزند ڈاکٹر عباس خان 16 ڈسمبر 2013ء کو جیل کی کوٹھری میں لٹکے ہوئے پائے گئے تھے۔

ڈاکٹر عباس جنگ زدہ شہر حلب میں متاثرین کی طبی مدد کے مقصد سے انسانی بنیادوں پر ترکی کے راستے یہاں پہونچے تھے۔ انہیں نومبر 2012ء میں حراست میں لے کر کافی اذیتیں دی گئیں۔ شامی حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ انہوں نے خودکشی کرلی جبکہ ڈاکٹر عباس خان کے ارکان خاندان کا یہ موقف ہے کہ ان کا حراست میں رکھ کر قتل کیا گیا۔ فاطمہ خان نے برطانیہ سے سوئٹزر لینڈ کا سفر کرتے ہوئے اقوام متحدہ یورپین آفس کا وزیٹرس پاس حاصل کیا اور وہ کانفرنس کے مقام پر پہنچ گئیں۔

Leave a Comment