’’ایبولا ‘‘ نامی بیماری کا کوئی علاج نہیں

بیدر /20 اگست ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) بیرونی ممالک میں وائرس سے پھیل رہی ’’ ایبولا ‘‘ نامی بیماری کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ یہ بات بیدر ضلع ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مدنا ویجناتھ نے بتائی ۔ وہ یہاں پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ آفریقہ کے ممالک لائی بیریا سیریا اور لین میں یہ بیماری کے جراثیم دکھائی دئے ہیں لیکن کوششوں کے باوجود بھی اس بیماری کا علاج کیلئے دوائی یا انجکشن نہیں ڈھونڈ پارہے ہیں ۔ اسی لئے بیدر ضلع کی عوام کو میڈیا کے ذریعہ اس بیماری سے واقف کروانے کیلئے ہی یہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ ایبولا ‘‘ جان لیوا بیماری ہے اس بیماری کے بخار سے اب تک 1300 افراد متاثر ہوئے ہیں جس میں سے 700 سے زیادہ افراد کی موت واقع ہوگئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 1976 میں کانکا کے کیتھیولک سنیاسی کے خون کا ٹسٹ کیا گیا تھا تب اس بیماری ’’ ایبولا ‘‘ کے بارے میں جانکاری حاصل ہوئی تھی ۔ یہ بیماری ملیریا ، ٹائفیڈ ، ڈینگو ، چکن گونیا ، ایچ این ، مورکا بخار اور مرغی بخار ( چکن پاکس ) جیسی بیماریوں سے بھی بھیانک بیماری ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آفریقہ کے جنگل میں چمگاڈر ، چمپازی ، گوریلا جیسے جانوروں میں یہ بیماری پائی جاتی ہے اور ورلڈ ہیلتھ سنٹر کی جانب سے حفاظتی اقدامات کے بارے میں جانکاری دی جارہی ہے اور اس بیماری کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اس بیماری کی علامت زیادہ بخار کا آنا ، گلے میں درد ، قئے ، پیٹ میں درد ، کڈنی لیور متاثر ہونا ، کمزوری محسوس ہونا ، آنکھوں میں کمزوری آنا ، جسم پر پھوڑے ہونا جیسی علامت سامنے آتی ہیں اور یہ بیماری انتہائی خطرناک بیماری ہے اس کے لگنے کے بعد انسان کی کچھ ہی ہفتوں میں موت ہوجاتی ہے ۔ اس لئے عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ اگر ایسی کسی علامت کا کسی کو پتہ چلتا ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے خون کی جانچ کروائے اور اسی سے اس کا پتہ لگایا جاسکتا ہے اور ضلع انتظامیہ کی جانب سے اس کیلئے کنٹرول روم قائم کیا گیاہے ۔ جس کا ٹول فری نمبر 18004257244 بیاس پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ اس موقع پر ضلع ملیریا عہدیدار ڈاکٹر اانیل چنتا منی بھی موجود تھے ۔