۔85,948 کروڑ کے اضافی اخراجات ‘ حکومت پارلیمنٹ سے رجوع

۔41 ہزار کروڑ روپئے سرکاری بینکوں کو فراہم کرنے کی تجویز ۔ ایوان سے منظوری کی خواہش
نئی دہلی 20 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے 85,948.86 کروڑ روپئے کے اضافی اخراجات کیلئے پارلیمنٹ سے منظوری طلب کی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ جو اضافی رقم حکومت نے طلب کی ہے اس میں تقریبا نصف رقم عوامی شعبہ کے بینکوں میں نئی جان ڈالنے کیلئے استعمال کی جائے گی ۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ یہ جاریہ اقتصادی سال کے ختم مارچ 2019 تک یہ اضافی رقم خرچ کی جائے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی کی جانب سے لوک سبھا میں پیش کردہ ضمنی مطالبات زر کے دوسرے حصہ میں کہا گیا ہے کہ تقریبا 15,065.49 کروڑ روپئے نقد ادائیگیوں میں جائیں گے ۔ ان گرانٹس اور مطالبات زر کے ذریعہ حکومت 2,345 کروڑ روپئے قومی ائر لائین ائر انڈیا کی حالت میں بہتری لانے کیلئے خرچ کی جائے اور ائر لائین کی صورتحال تبدیل کی جاسکے ۔ ارون جیٹلی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات زر میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی منظوری طلب کی جا رہی ہے تاکہ اضافی 85,948.86 رقم خرچ کی جاسکے ۔ اس رقم میں جملہ 15,065.49 کروڑ روپئے نقد ادائیگیوں پر خرچ کئے جائیں گے ۔ حکومت نے تجویز کیا ہے کہ تقریبا 41,000 کروڑ روپئے کے اضافی سرمایہ کو عوامی شعبہ کے بینکوں میں مشغول کیا جائے ۔ اس کیلئے حکومت کی سکیورٹیز وغیرہ کو مستحکم کیا جائیگا ۔ سال 2017 اکٹوبر میں حکومت نے 2.11 لاکھ کروڑ روپئے عوامی شعبہ کے بینکوں میں آئندہ دو سال کے دوران مشغول کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کیلئے بجٹ میں 18,139 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی تھی ۔ حکومت کا منصوبہ تھا کہ جملہ 1.35 لاکھ کروڑ روپئے سرکاری بانڈز کی شکل میں حاصل کئے جائیں اور مابقی رقم بینکوں کی جانب سے مارکٹ سے سرمایہ حاصل کرتے ہوئے وصول کی جائے جو تقریبا 58,000 کروڑ روپئے کی ہوتی ہے ۔