ایس ایم بلال
حیدرآباد ۔ 7 ؍ جنوری -ریاست کی کاونٹر انٹلی جنس سیل نے 22 سال سے مطلوب فصیح گینگ ماڈیول سے تعلق رکھنے والے ایک رکن کو بنڈلہ گوڑہ علاقہ سے گرفتار کرلیا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ 40 سالہ نذیر ساکن بنڈلہ گوڑہ جو سال 1993 میں بابری مسجد کی شہادت میں حصہ لینے والے کارسیوکوں کے مبینہ قتل کیس اور مجرمانہ سازش کے ایک دو مقدمات میں ملوث ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ نذیر نے بابری مسجد کی شہادت کے بعد فصیح الدین گینگ میں شمولیت اختیار کی اور بعدازاں شہر میں نند راج گوڑ اور پاپیا گوڑ جو کار سیوا میں حصہ لیا تھا نشانہ بناتے ہوئے ان کا قتل کر دیا تھا ۔ اس سلسلہ میں نذیر کے خلاف کرائم نمبر 118 اور 172/1993 قتل ‘ جبرا وصولی اور مجرمانہ سازش کے دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ اس کیس کے اہم ملزم فصیح الدین اور اس کے دو ساتھیوں رفیق اور محمود کو سکندرآباد کے کارخانہ علاقہ میں سال 1993 میں انکاونٹر میں ہلاک کر دیا تھا ۔ واضح رہے کہ فصیح الدین کا تعلق ضلع نلگنڈہ سے تھا اور اس نے بابری مسجد کی شہادت میں حصہ لینے والے آندھراپردیش کے کارسیوکوں کو نشانہ بنانے کے لئے ایک ٹولی تشکیل دی تھی جس میں محمد اصغر علی ‘
مرزا فیاض بیگ ‘ نذیر اور دیگر مسلم نوجوانوں نے شمولیت اختیار کی تھی ۔ مرزا فیاض بیگ سال 1996 میں نامپلی کریمنل کورٹ کے احاطہ سے پولیس تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن بعدازاں اسے جموں کشمیر میں سیکوریٹی فورس نے انکاونٹر میں ہلاک کر دیا تھا ۔ نذیر کے خلاف مقدمات درج کئے جانے کے بعد اور اس گینگ کے ارکان کو انکاونٹرس میں ہلاک کئے جانے کے پیش نظر ‘نذیر خلیجی ممالک فرار ہوگیا تھا ۔اور اس کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کئے گئے تھے ۔ نذیر کی حیدرآباد میں آمد کی اطلاع پر کاونٹر اٹنلی جنس عملہ نے اس کے مکان واقع بنڈلہ گوڑہ سے رات دیر گئے گرفتار کرلیا اور فوری اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی ) کے دفتر منتقل کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی ۔ 22 سال کے طویل عرصہ سے مفرور نذیر کا پتہ لگانے کے لئے ریاستی پولیس نے کئی مرتبہ اس کے مبینہ خفیہ ٹھکانوں پر دھاوا کیا تھا لیکن کامیابی ہاتھ نہ لگ سکی ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ نذیر کو اندرون دو یوم متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائیگا۔