نئی دہلی 23 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج سیول سروسیس پریلمنری امتحانات کو ملتوی کرنے سے انکار کردیا ہے جو کل ہونے والے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ طلبا کی جانب سے اپنی سوچ کے اعتبار سے جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ان کو دور کردیا گیا ہے اور امتحانات کو آخری لمحات میں ملتوی نہیں کیا جاسکتا جب کہ نو لاکھ طلبا امتحان لکھنے کیلئے تیار ہیں۔ ایک خصوصی سماعت میں جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ارون مشرا پر مشتمل ایک بنچ نے امتحانات پر حکم التوا جاری کرنے کی درخواست مسترد کردی ۔ اس بنچ نے آج کام کا دن نہ ہونے کے باوجود اس درخواست کی سماعت کی ۔ بنچ نے تقریبا دیڑھ گھنٹے تک صبر کے ساتھ سارے مسئلہ کی سماعت کی لیکن درخواست گذاروں کے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا کہ امتحانات کا طریقہ کار ایسا ہے جس کے نتیجہ میں سائینس کا پس منظر رکھنے والے طلبا کو مدد ملتی ہے ۔ عدالت نے یونین پبلک سرویس کمیشن کے اس فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں طلبا سے کہا گیا ہے کہ وہ پریلمنری امتحان کے انگلش معلومات کے سیکشن میں سوالات کے جواب نہ دیں کیونکہ اس کی شمولیت پر احتجاج کیا گیا تھا ۔ درخواست گذار انگیش کمار کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے وکیل رویندر ایس گاریا اور وشال سنہا نے کہا کہ امتحانات کا جو موجودہ طریقہ کار ہے وہ در اصل پہلے ہی شہری پس منظر نہ رکھنے والے اور ہیومانٹی اور غیر انجینئرنگ / سائینس اور مینجمنٹ اسٹریمس کے طلبا کے خلاف جاتا ہے ۔ عدالت نے تاہم اس استدلال کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ عدالت نے کہا کہ طلبا کو جو مشکلات پیش آسکتی تھیں انہیں دور کردیا گیا ہے اور اب طلبا اچھے موقف میں ہیں ۔ ان کی شکایات کا ان کے حق میں فیصلہ کردیا گیا ہے ۔ جہاں تک میرٹ کے تعین کا فیصلہ ہے وہ طلبا کے انداز سے نہیں کیا جاسکتا ۔
عدالت نے مزید کہا کہ تعلیمی مسائل کو حکومت اور ماہرین کے اداروں پر چھور دیا جانا چاہئے اور وہی اس پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔ بنچ نے تاہم کہا کہ جو طلبا زیادہ محنت کرتے ہیں اور ذہین ہوتے ہیں وہ سائینس اور طب اسٹریم اختیار کرتے ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ اس شعبہ کے طلبا امتحانات میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ذہین طلبا کہاں چلے جاتے ہیں ؟ ۔ جو ذہین ہوتے ہیں وہ سائینس اور میڈیسن احتیار کرتے ہیں اور اسی شعبوں کے طلبا دوسرے شعبوں کے طلبا سے زیادہ نشانات حاصل کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ کوئی بھی نظام صد فیصد بہتر نہیں ہوتا ۔ عدالت نے درخواست گذار سے یہ بھی سوال کیا کہ وہ بہت تاخیر سے کیوں عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز بہی ہے ۔ نصاب بھی وہی ہے ۔ آپ کو مزید وقت کیوں درکار ہے ؟ ۔ نو لاکھ طلبا امتحانات میں شرکت کرنے تیار ہیں۔ اگر ایک تیار نہیں ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ تمام طلبا نے مئی کے مہینے میں درخواست دائر کرتے ہوئے امتحانات کیلئے تیاری کی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ اس کی نظر میں اس درخواست کو قبول کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لئے اسے مسترد کیا جاتا ہے ۔واضح رہے کہ یو پی اے س سی مسئلہ پر گذشتہ دنوں کافی ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی ۔