لکھنو۔26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایسے وقت جبکہ اپوزیشن کا الزام ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی حکومت نے انسانی زندگیوں سے کہیں زیادہ گایوں پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے، چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے آوارہ گایوں کی مناسب نگہداشت کے لیے عاجلانہ انتظامات کرنے کے سلسلہ میں متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات جاری کیئے ہیں۔ انہوں نے ریاست کے مختلف حصوں میں غاصبانہ قبضوں کو برخاست کرتے ہوئے سرکاری اراضی کو صاف کرنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ سینئر عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ میں چیف منسٹر نے انہیں یہ کہا کہ ایک کمیٹی قائم کرتے ہوئے آوارہ گایوں کے لیے آسرے کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے اقدامات پر غور و خوص کیا جائے اور چیف سکریٹری انوپ چندا پانڈے کو اس ضمن میں ایک ہفتے کے اندرون سفارشات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ گزشتہ روز یہاں جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق آدتیہ ناتھ نے کہا کہ مویشیوں کے لیے مختص اراضی پر غاصبانہ قبضوں کی صورت میں ان کی صفائی کے لیے عاجلانہ اقدامات کیئے جائیں اور ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ضلع پنچایت سطح پر گایوں کے لیے 750 شیلٹروں کو تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ دیہی اور شہری علاقوں میں مویشیوں کے لیے مناسب چارہ اور شیڈ اور پینے کے پانی کی سہولیات مہیا کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ہر میونسپل کارپوریشن کے لیے 10 کروڑ روپئے الاٹ کیئے ہیں تاکہ بے آسرا گایوں کے لیے شیلٹر کا انتظام کیا جاسکے جبکہ گائو شالائیں قائم کرنے کے لیے ہر ضلع کو 1.2 کروڑ روپئے دیئے گئے ہیں۔ 69 بلدی اداروں میں گایوں کے لیے شیلٹر فراہم کرنے کے فنڈس منظور کیے جاچکے ہیں اور متعلقہ رقم جاری کردی گئی ہے لیکن ابھی تک بریلی اور لکھنو میونسپل کارپوریشنس میں ہی کام مکمل ہوا ہے۔ یہ ہدایات بعض بی جے پی ارکان اسمبلی کی نمائندگی پر جاری کیے گئے ہیں جنہوں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ بے آسرا جانور بالخصوص گائے اور بیل ریاست بھر میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچارہے ہیں اور سڑک حادثات کے لیے بھی بڑی وجہ بن گئے ہیں۔