لکھنو ۔ 18 ۔ جون (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو نے آج رات دیر گئے اپنی کابینہ میں رد و بدل کی جس کے بعد کئی وزراء کے درجوں میں کمی اور کئی وزراء کو ترقی دی گئی ۔ ا طلاعات کے مطابق کم و بیش 12 قلمدانوں میں رد و بدل کیا گیا ہے جن میں اہم بلرام یادو ہیں جن سے پنچایت راج کا قلمدان واپس لیکر وزیر جیل کا قلمدان تفویض کیا گیا ہے جبکہ سماج وادی پارٹی ترجمان راجندر چودھری کو منسٹر برائے پالیٹیکل پنشن بنایا گیا ہے جبکہ قبل ازیں ان کے پاس وزارت جیل کا قلمدان تھا۔ اس طرح حکومت نے کئی ومراء کے قلمدانوں میں کمی کردی ہے ۔ رام گووند چودھری سے بہبود اطفال اور تغذیہ کا قلمدان واپس لیکر انہیں صرف بنیادی تعلم کا انچارج مقرر کیا گیا ہے ۔ اس طرح برہما شنکر ترپاٹھی جو اب تک منسٹر آف ہوم گارڈس ، پ رنیتا رکھشادل اور ووکیشنل ایجوکیشن تھے ، نے ووکیشنل ا یجوکیشن اور اسکل ڈیولپمنٹ کے قلمدان وزیر اعلیٰ کو واپس کردیئے ہیں۔ منوج کمار پانڈے جواب تک وزارت زراعت (ماسوائے زراعتی خارجی ٹریڈ ، زراعتی ایکسپورٹ اور زراعتی مارکیٹنگ) اگریکلچرل ایجوکیشن ، اگریکلچر ریسرچ اور مذہبی امور کے انچارج تھے ،
ان کے تمام قلمدانوں کو اکھلیش نے اپنے پاس رکھ لیا ہے اور انہیں صرف وزارت سائنس و ٹکنالوجی کا قلمدان تفویض کیا گیا ہے جو قبل ازیں ریاستی وزیر ابھیشک مشرا کے پاس تھا ۔ نارد رائے کو وزیر کھادی و گرام ادیوگ کا قلمدان سونپ کر اسپورٹس اور امور نوجوانان کا قلمدان ان سے واپس لے لیا گیا ہے ۔ اکھلیش یادو اسپورٹس اور امور نوجوانان کے انچارج ہوں گے جہاں ان کی معاونت ریاستی وزیر فرید محفوظ قدوائی کریں گے ۔ کیلاش جو اب تک کھادی اور گرام ادیوگ وزارت کے ذمہ دار تھے ، انہیں اب وزارت پنچایت راج کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ سیکنڈری ایجوکیشن منسٹر اقبال محمود کو وزارت سمکیات اور پبلک انٹرپرائزس کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جبکہ محبوب علی کو وزیر برائے سکیوریٹی ایجوکیشن کا قلمدان تفویض کیا گیا ۔ ریاستی وزراء میں وجئے کمار کے درجہ میں کمی کرتے ہوئے انہیں وزیر برائے مذہبی امور مقرر کیا گیا ہے ۔