یوپی میں ایس پی اور بی ایس پی کے ہاتھ ملانے سے بی جے پی کو دوہرا چیالنج کاسامنا۔

مغربی اترپردیش کے جاٹ اکثریت والے علاقے سے لر کر مرکزی یوپی سے پورانچل کی بیشتر سیٹوں پر بی جے پی نے 2014کے لوک سبھا اور 2017کے اسمبلی الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی

لکھنو۔ سماجی وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی( ایس پی۔ بی ایس پی) کے اتحادکا اثر اوربھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کے حالیہ دونوں میں لئے گئے فیصلے جس میں معاشی طور پر کمزور اونچی ذات والوں کو تحفظات کی فراہمی کے لئے دستور میں ترمیم کا فیصلہ ‘ گائے ٹیکس اور آوارہ گائیوں کو شیلٹرس فراہم کرنے کا وعدہ ‘ اترپردیش کے گاؤں ‘ٹاؤن او رشہرو ں میں صاف نظر آرہا ہے۔

لکھنو میں جانیشوار مشرا پارک میں جاری سرگرمی میں ہونے والی بات چیت ریاست کے سیاسی ماحول کے تئیں میڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی رائے ظاہر کررہی ہے۔

محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا ایک گروپ جن کا تعلق بستی ضلع سے ہے گھر جانے کے لئے بس کا انتظار کرتے ہوئے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کہاکہ ’’ جان لینے والا وقت ہے‘‘ ۔

درج فہرست پسماندہ طبقات کی ( اوبی سی)زمرے میںآنے والے دو کرمیاں‘ ایک برہمن اور ایک دلت۔ تمام چاروں نے کہاکہ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیونکہ انتظامیہ نے انہیں میڈیاسے بات کرنے کی اجازت دی ہے نے بات چیت میں ریاست کے موجودہ سیاسی حالات پر یہ تبصرہ کیا۔جب ان مرکزی او رریاستی بی جے پی حکومت کے متعلق پوچھا گیاتو کمری عہدیداروں نے کہاکہ’’مرکز سے کچھ حدتک گاؤں میں کام ہوا ہے ۔

مگر یوپی حکومت بالخصوص یوگی ادتیہ ناتھ نے معمولی کام کئے ہیں۔ وہ مندر ‘ مہم اور گائے میں مصروف ہیں۔ اب موڈ بی جے پی کے خلاف چل رہا ہے‘‘۔ ان کے ساتھی اور ایک کرمی نے کہاکہ’’ بی جے پی کو جیت ہمارے(اوبی سی)ووٹوں سے حاصل ہوئے ہیں مگر تمام سرکاری محکوں پر غلبہ کس کا ہے۔

یہ اونچی ذات والے ہیں‘‘۔ان کے برہمن ساتھے جو نزدیک بیٹھاتھا مسکرانے لگا مگر کچھ ردعمل پیش نہیں کیا۔خاموشی کے ساتھ معمر دلت ملازم نے کہاکہ ان کی تشویش کی اہم وجہہ پنشن ہے‘جو کہ ریاستی مسئلہ ہے۔صرف پنشن کا حکومت میں نچلی سطح کے عملے کا جائزہ لے کر اس میں اضافہ کیا گیاتو وہ بی جے پی کو ووٹ دیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ روایتی طور پر اگر بی ایس پی کے حامی ہیں تو انہوں نے ردعمل میں کہاکہ ’’ میں مایاوتی کے سماج(جاتاؤ) سے ہوں۔ مگر میرا ماننا ہے کہ اس بنیاد پر ووٹ دینا غلط ہے۔بی جے پی نے اپنا کام نہیں دیکھا اور میری مدد نہیں ہے۔ یہ وجہہ ہے‘‘۔

مغربی اترپردیش کے جاٹ اکثریت والے علاقے سے لر کر مرکزی یوپی سے پورانچل کی بیشتر سیٹوں پر بی جے پی نے 2014کے لوک سبھا اور 2017کے اسمبلی الیکشن میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی

۔یہ تب ہی ممکن ہوسکا جب اس نے شہری پاکٹس میں جیت حاصل کی‘ مختلف اعلی ذات والوں(برہمن اور ٹھاکر) ‘ غیر یادو اوبی سی گروپ اور نان جاتوا دلت گروپس کا اتحاد قائم کیااور کسانوں کی حمایت حاصل کی۔

جبکہ دوسری جانب دیگر جماعتوں کے بھروسہ مند سماجی گروپس ‘ یاود‘ جاتوا او رمسلمان ایس پی او ربی ایس پی میں تقسیم ہوکر رہ گئے‘ جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے تو پچھلے ہفتہ ریاست میں اتحاد قائم کرنے والے ایس پی اور بی ایس پی کے ساتھ کانگریس نے بھی یہ ووٹ حاصل کئے اور اپوزیشن کے ووٹ بڑے پیمانے پر تقسیم ہوکر رہ گئے۔

بی جے پی نے اپنے جواب میں کہاتھا کہ وہ اس اتحاد سے مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے اور ان کے نشانہ پر یوپی کے تمام حلقہ جات میں ’’ پچاس فیصد ووٹ‘‘ حاصل کرنا ے۔ پارٹی کی حکمت عملی تیارکرنے والے ایک بڑے لیڈر نے کہاکہ’’ اونچی ذات والے یادو کے علاوہ اوبی سی اور جاتوا کے علاوہ دلت نے ہمیں پچھلے مرتبہ جیت حاصل کرنے میں مدد کی تھی

۔یہ دونوں ملاکر یوپی کی آبادی سے 60سے 65 فیصد تناسب رکھتے ہیں‘ پچھلی مرتبہ 60سے 70فیصد ووٹ شیئر میں ڈرامائی تبدیلی ائی تھی جس میں ہم نے چالیس فیصد ووٹ حاصل کیاتھا۔ اور اب مرتبہ ہم ان تمام گروپس کے 80فیصد ووٹ شیئر کی کوشش کررہے ہیں‘‘۔

مگر ریاست کی زمینی حقیقت بتاتی ہے کہ بی جے پی کے قدیم اتحاد اب ختم ہورہے ہیں۔ اور اس کی وجہہ سے دو چیالنجس کا سامنا ہوگا۔گروپ کے طور پر اتحاد کے لئے ایک اہم حصہ اپنے بنیادی ووٹوں کی آؤ بھگت میں لگا ہوا ہے مگر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان کے جذبات کہیں کھو گئے ہیں۔

یہ موڈ ہے جس کے متعلق پارٹی لیڈر س تسلیم کرتے ہیں‘ اور اپنی وضحت میں کہیں رہیں حالیہ عرصہ میں مرکز اور ریاستی سطح پر حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا یہ نتیجہ ہے۔کچھ انتباہ یہاں پر ضروری ہوجاتی ہیں۔

پیچیدگیاں تو ائی ہیں مگر اس یہ ضروری ہے کہ اس کے قدیم ووٹرس ان سے دور ہوجائیں۔ مضمون کی تحریر کے وقت تک تحفظات کے معاملات پر حکومت کا موقف واضح نہیں تھا۔

انتخابات کو تین چار ماہ باقی رہ گئے ہیں پارٹیوں نے اب تک اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیاہے۔

مہم کی شروعات بھی نہیں ہوئی ہے‘ اور بہت کچھ تبدیل ہوجائے گا نریندر مودی میدان میں اتریں گے۔بی جے پی کا یہ ماننا ہے کہ ناراضگی اور الجھن برہمی کی نمائندگی نہیں کرتا اور یہ حصہ حقیقی ووٹروں پر اثر انداز بھی نہیں ہوگا

۔لکھنو سے واراناسی کے راستوں میں پڑے دھابوں پر اونچی ذات والے پاکٹس پرتاب گڑھ سے جونپور تک ‘ بی جے پی کے خلاف رائے میں یکسانیت نظر ائی‘ ایس سی ایس ڈی ( مظالم سے بچاؤ ایکٹ) 1989میں ترمیم کا فیصلہ کااحیاء ’’ مشکل ‘‘ ہوگیا ہے ‘ جس پر سپریم کورٹ غلط اور پارٹی صحیح دیکھائی دے رہی تھی۔

جونپور کے ایک مقامیں گاؤں کے دھابہ کا مالک انل سنگھ ‘ سابق پردھان سشیل دوبے اور مقامی کارپوریٹر انوپم سنگھ نے اس پر کچھ اس طرح روشنی ڈالی۔

انل سنگھ نے کہاکہ ’’سپریم کورٹ نے مانا ہے کہ اس ایکٹ کا غلط استعمال ہورہاتھا۔ انہوں نے اس کو بدل دیا۔ پھر حکومت نے کیو ں اس کو دوبارہ احیاء عمل میں لایا؟۔ تصور کریں اگر کوئی دلت میرے دھابہ کو آتا ہے۔ اگر وہ پیسے ادا نہیں کرے گا۔

میں اس کو پیسوں کے لئے کہوں گا۔ اس کی شکایت پر کہ میں نے اس کو ہراساں کیاہے مجھے بناء تحقیق کے بند کردیاجائے گا‘‘۔

جب ہم نے یوپی کے ٹھاکروں کے زیر اثر علاقے میں عام رائے جاننے کی کوشش کی تو ‘ انوپم سنگھ نے ردعمل میں کہا کہ ’’ کیاٹھاکرو اد‘ یہ بی جے پی دلتوں کی پشت پناہی چاہتی ہے‘‘

۔دوبئے نے اپنی بات کو پوری کرتے ہوئے کہاکہ یہ ٹھاکروں او ربرہمنوں کے متعلق نہیں ہے’’ تمام اونچی ذات والوں کا متحد ہونا لازمی ہے۔ اور اگر بی جے پی قانونی فیصلہ کو بدل سکتی ہے تو ‘ پھر کیوں نہیں رام مندر کے متعلق ایسا کیاجاتا ہے‘‘۔

ریاست کے مغربی حصہ جیسے مرزا پور کا راج گڑھ بازار ‘ جہاں پر دوسال قبل جہاں سے بی جے پی کو بھاری حمایت ملی تھی۔

اب یہاں کی موڈ پوری طرح بدلا ہوا ہے۔مارکٹ میں ایک پان شاپ کی دوکان پر کھڑے نیرج سریواستو ۔ وہ بی جے پی سے دور ہوگئے ہیںیہاں تک کہ ان پارٹی بی جے پی کی پرانی حمایتی ہے۔

ایسا کیوں؟ جس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ’’ بی جے پی نے ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ کااحیاء عمل میں لایا اور اسکو مزید مضبوط کردیاہے۔

یہ وہ ایکٹ ہے جو ہمارے خلاف استعمال ہورہا ہے۔ بی جے پی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اسکی وجہہ سے بڑے پیمانے کی ناراضگی پیدا ہوئی ہے‘‘۔

مگر دیہی پاکٹس اور چھوٹے بازاروں میں اس ایکٹ کے متعلق نوجوان طبقہ جو بی جے پی کو مضبوط حمایتی ماناجاتا ہے کی رائے دوسری ہے اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ایکٹ بھائی چارہ‘ ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔

جانیشوار مشرا پارک میں جب واپسی ہوئی تو یہاں پر چار نوجوان دوست ایک بنچ پر بیٹھے تھے۔ دیویا سنگھ جو ایک مقامی ادارے میں کام کرتی ہیں۔

انہوں نے یوگی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہاکہ ’’ ہمیشہ ہندو مسلم میں دراڑ ڈالنے کی باتوں کو میں پسند نہیں کرتی۔ اس بات کو دیکھنا چاہئے کہ اکھیلیش نے کس طرح ترقی پر توجہہ مرکوز کی تھی۔ انہو ں نے یہ پارک بنایا۔

مگر میں مودی کو ووٹ دیا۔ میرے گھر والے ان کے حمایتی ہیں‘‘۔چاند ‘ اشوانی جیسوال اور رجنیش سنگھ کامرس کے طالب علم ہیں۔

چاند جو ایک مسلم ہیں نے کہاکہ ’’ ہم نے ہمیشہ سماج وادی پارٹی کوووٹ دیاہے‘‘۔ جیسوال نے کہاکہ ان کے گھر والے ہمیشہ بی جے پی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔وہ چھوٹا کاروباری چلاتے تھے۔

مگر نوٹ بندی اور گڈ اینڈ سروسیس ٹیکس ( جی ایس ٹی) نے ان کے کاروبار پر بڑا اثر کیااور وہ کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوگئے ۔

انہوں نے کہاکہ ’’ وہ اس مرتبہ بی جے پی کوووٹ نہیں دیں گے‘‘۔رجنیش سنگھ نے کہاکہ ان کی توجہہ کا مرکز نوکریاں ہیں۔انہیں بڑے پیمانے پر حکومت کی جانب سے تقررات نہیں دیکھے اور خانگی شعبہ میں کسی قسم کی ترقی انہیں نظر نہیں ائی۔’’ دیکھتے ہیں کون ملازمتوں کی بھر پائی کرتا ہے‘‘۔

کیایہ رائے دہندے بی جے پی کے خلاف جائیں گے یہ بات صاف نہیں ہوئی ۔کیا تحفظات کااقدام ایس سی ‘ ایس ٹی ایکٹ سے پیدا ہوئے غصہ کو دور کرے گا اس بات کااندازہ نہیں لگایاجاسکتا ۔ مگر یہ رائے دہندوں نے وارننگ کے طور پر صاف پیغام دیدیا ہے۔

مغربی اترپردیش کے بی جے پی کے اہم حمایتی اوبی سی سماج ‘ جاٹوں میں تقابل متضاد ہے۔مظفر نگر 2013فسادات کے فوری بعد ‘ بی جے پی نے جاٹ اکثریت والی اس علاقے پر اپنا قبضہ جما لیاتھا۔

یہاں پر الیکشن ہندو بمقابلہ مسلمان ہوگیا تھا اور بی جے پی ہندوؤں بالخصوص جاٹ طبقے کی نمائندہ جماعت بن گئی تھی۔ تمام دوسری سیاسی جماعتوں کو ’’ اقلیتوں کی چاپلوسی ‘‘کرنے والوں کے طور پر پیش کیاگیاتھا۔ بی جے پی نے2017میں بھی جاٹ اور دیگر غیر جاٹ سماج کی بڑے پیمانے پر حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

مظفر نگر میں ایک سروے سے یہ انکشاف ہوا کہ یہاں کے حالات اب بدل گئے ہیں۔ بدھانا ٹاؤن کے قریب کا ایک گاؤں میں جاٹ زمین مالک منوج سہراوت جنھوں نے پچھلے دو الیکشنوں میں بی جے پی کو ووٹ دیا ہے وہ اب خوش نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ انہوں نے کسانوں کا قرض معاف کرنے کا وعدہ کیاتھا مگر ہمارے علاقے کے کسانوں کا قرض اب تک معاف نہیں ہوا ۔

گنا کا پیسے بھی اب تک ادا نہیں کئے گئے‘‘۔ مگر اس سے بھی اہم وجہہ ان کی یہ ہے کہ وہ اپنی ذات جاٹوں کی پارٹی راشٹریہ لوک دل( آر ایل ڈی) کی حمایت کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ’’ کیرانہ میں ضمنی انتخابات کی جیت کے بعد ‘ جہاں سے آر ایل ڈی نے واپسی کی ہے۔ چودھری اجیت سنگھ نے ہم سے کہاتھا کہ وہ مظفر نگر سے خود مقابلہ کریں گے۔ پھر ہم ان کو ہی ووٹ دیں گے۔ممکن ہے کہ یہ چودھری صاحب کا آخری الیکشن ہو‘‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایس پی اور بی ایس پی کے بڑی اتحاد کا حصہ اگر آر ایل ڈی بنتی ہے تو کیاووٹ دینا پسند کریں گے کیونکہ مذکورہ دونوں پارٹیاں ’’ موافق مسلمان‘‘ مانی جاتی ہیں۔ جس پر شیروات نے جواب دیاکہ ’’ جی ہاں ۔ وہ کشیدگی اب ختم ہوگئی ہے۔ جاٹ او رمسلمان دونوں ایک ہی طرف ووٹنگ کریں گے‘‘۔

یہ ضروری نہیں ہے کہ اسی طرح کا رحجان جوڑا گاؤں کوتوبا اور کوتوبی میں بھی رہے جو 2013کے فسادات میں بری طرح متاثر ہوا تھا‘ اور یہاں سے مسلمانوں بڑے پیمانے پر نقل مقام کیاتھا۔بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنجیو بالیاں یہاں سے آتے ہیں۔

ایک مقامی کاور پال نے کہاکہ ’’ ہم اب بھی ہمارے مقامی لیڈروں کے ساتھ ہیں۔ فسادات میں شامل ہونے پر جیل کی سزاء کاٹنے والے ہمارے جاٹ نوجوانوں کو بالیان نے رہا کرایاتھا‘ حالانکہ اب بھی مقدمات زیرالتوا ہیں۔ صرف بی جے پی ہمیں مسلمانوں سے بچا سکتی ہے‘‘ ۔

وہیں مقامی نوجوان نے اس بات کو بھی تسلیم کیاکہ جاٹ ووٹ بڑے پیمانے پر تقسیم ہونگے۔اس طرح کی تقسیم سیانیوں میں دیکھنے کو ملی جو بی جے پی کی بڑے پیمانے پر حمایت کرنے والے ایک او ربڑا گروپ ہے۔ سریند ر اور سنیل سیانی بھاسانہ کے گاؤں کی ایک دوکان میں بیٹھے تھے۔

کسان مضبوطی سے بی جے پی کے ساتھ کھڑے ہیں اور دیہی ہاوز‘ بیت الخلاء کی تعمیراور توانائی کی کامیابی کو دوہرارہے ہیں‘ بعد میں یوگی حکومت کی گورننس کے متعلق اپوزیشن کی شکایتوں پر بھی تذکرہ کیا۔مشرق میں بھی رحجان متضاد ہے۔

دھانا پور کے بھادوہی میں جو وارناسی سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے نارائن شرما جو نائی سماج سے ہیں بی جے پی کی حمایت کو جاری رکھنے کی بات کہی۔ انہوں نے دیہی فلاحی اسکیمات کا حوالہ دیا اور اس کومودی حکومت کی بڑی کامیابی قراردیا۔ انہو ں نے کہاکہ ’’ وزیراعظم مودی نے دنیامیں ہندوستان کی عزت کو بڑھاوا دیاہے‘‘۔

تاہم مرزا پور کے چونار میں کرمی گروپ کے دوکاندار وں کااحساس ہے کہ حکومت کا معاشی مظاہرہ کمزور ہے۔ انہو ں نے استفسار کیاکہ’’ مارکٹ سست ہوگیا ہے۔ چاروں طرف بی جے پی کااقتدار ہے۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟‘‘

۔ملک کے اہم حصہ مانے جانے والی ریاست میں طبقات او رجماعت کا کافی مضبوط ربط ہے۔اونچی ذات کے تمام کسانوں نے 2017 میں قرضوں کی معافی کے بھروسہ پر بی جے پی کاساتھ دیاتھا۔ان کا موڈ اب وقت کے ساتھ بدل گیاہے۔پارلیمنٹ میں بھادوہی کی نمائندگی بی جے پی کے قومی کسان مورچہ سل کے صدرویریندر سنگھ مست کرتے ہیں۔

مگر جس طرح دیگر اضلاع میں ہمارے جائزے دوران جو باتیں سامنے ائی وہ یہاں پر دیکھائی دیں اور اس کی میں کسانوں کی ناراضگی بھی شامل تھی۔ یہاں پر بڑھتی قیمتیں نہیں جس کی وجہہ سے مدھیہ پردیش کے کسانوں نے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیاتھا بلکہ سڑکوں پر گھومنے والی آوارہ پالتو میویشے ہیں۔لکشمن پتی گاؤں کے ایک کیواٹ لال بہادر چیف منسٹر پر گاؤ ذبیحہ کی پالیسی اور گاؤ رکشوں کی حمایت پر ناراض ہے۔

انہوں نے کہاکہ ’’ سابق میں ہم ناکارہ میویشیوں کو ہٹادیتے تھے ۔ اب کوئی نہ تو انہیں خریدنے اور لے جانے کے لئے تیار ہے۔ مسلم خوفزدہ ہیں۔ لہذا لوگ خاموشی کے ساتھ رات کے اوقات میں جانوروں کو گاؤں کی سڑکوں اور فارمس میں چھوڑ تے چلے جارہے ہیں۔

اب یہ ہیجان انگیز کیفیت اختیار کرچکا ہے اور اس کی وجہہ سے کسان چوبیس گھنٹے ان جانوروں سے اپنے کھیتوں کی حفاظت کے لئے مجبور ہوگئے ہیں‘ یہ دیوالیہ پن ہی توہے‘‘۔اس طرح کی شکایتیں ریاست بھر سے یوپی میں مل رہی ہیں۔ حالیہ رپورٹس نے اس کی طرح کی باتوں کی تصدیق بھی کی ہے۔

عام زندگی کو تباہی سے بچانے کے لئے آوارہ گائیوں کی حفاظت کے راستے کے طور پر حکومت کے گائے ٹیکس نافذ کیاہے۔ مگر یہ چھوٹا اور تاخیر سے اٹھاگیاقدم ہے ‘ جس کی وجہہ سے چاروں طرف ناراضگی پھیلی ہوئی ہے۔اونچی ذات والوں ‘ اوبی سی اور کسانوں کی یہ آوازیں ہیں ممکن ہے کہ ساری ریاست اترپردیش کی بڑی آبادی کی پیچیدہ ڈیموگرافی نہیں ہوسکتی ۔

مگر پچھلے دو الیکشنوں میں جن لوگوں نے بی جے پی کا بھر پور ساتھ دیا ہے ان میں شعوربیداری کی یہ ایک مہم ہوسکتی ہے۔تاہم پارٹی کا یہ ماننا ہے کہ تمام باتیں مبالغہ آمیز ہیں۔پارٹی کے حکمت عملی کاروں کااس کے متعلق کہنا ہے کہ ’’ پہلی تو ہم اس بحث میں پڑھنا ہی نہیں چاہتے کہ ہمارے حمایتی منتقل ہوجائیں گے۔ میرے احساس میں ہم نے مذکورہ سماجی دھڑوں میں اپنی مضبوط پکڑ بنالی ہے۔

سابق میں دلتوں اور پسماندہ طبقات سے دور تھے ۔

مگر میں اس بات کو مان بھی لوں تک کے کچھ ناراضگیاں ہیں تو یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ یہ الیکشن سے قبل عوامی اورسماجی گروپ اپنی پریشانیوں کا خلاصہ کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ہمیں ووٹ نہیں دیں گے‘‘۔سب سے حیران کرنے والی مثال انہوں نے 2017کے مقابلے جاٹوں کے موڈ کے متعلق پیش کی ۔

انہوں نے کہاکہ ’’ ہر کوئی سمجھتا ہے کہ جاٹ ہمارے خلاف جائیں گے۔ مگر ہم اس علاقے میں سب کو صاف کردیں گے ۔ ٹھیک اسی طرح کے کچھ واقعات آپ دیکھ سکیں گے‘‘۔انہوں نے پھر سماج مساوات کو توڑ دیا۔ انہوں نے کہاکہ ’’ برہمن اور ٹھاکر ہمارے ساتھ کھڑے ہیں ۔

کیاسچ میں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ ایس پی اور بی ایس پی کوووٹ دیں گے اس کے بجائے راہول گاندھی یا مایاوتی کو وزیراعظم بنانے کیلئے ووٹ دیں گے؟‘‘۔انہوں نے مزیدکہاکہ دس فیصد تحفظات کی پیشکش سے اونچی ذات کے تمام طبقات کا موڈ بدل دے گا۔

انہوں نے کہاکہ ’’ وہ دوبارہ کہنا شروع کردیں گے کہ بی جے پی ہماری پارٹی ہے‘‘۔

مذکورہ لیڈر نے کہاکہ او بی سی یادو کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔اونچا ذات کو فراہم کئے جانے والے تحفظات کے لئے دستور میں ترمیم کے بعد ریاست میں قانون نافذ کرنے کاکام پارٹی کس طرح انجام دے گی کیو نکہ کوٹہ میں پچاس فیصد تحفظات سے زائد ریاست کو منظور نہیں دی جاسکتی ۔

اس چیالنج کامودی امیت شاہ او ریوگی ادتیہ ناتھ تین کس طرح سامنا کریں گے یہ بہت بڑا چیالنج بنا ہوا ہے۔

 

Leave a Comment