حیدرآباد ۔ 20 مئی (سیاست نیوز) شہر کے مصروف ترین علاقہ یوسف گوڑہ میں پیش آئے سنسنی خیز واقعہ میں بندوق بردار رہزن نے خاتون سافٹ ویر انجینئر جو نانو کمپنی کی ملازمہ ہے، کے اے ٹی ایم سنٹر میں طلائی زیورات لوٹ لئے۔ یہ واقعہ آج صبح اس وقت پیش آیا جب 25 سالہ سری للیتا متوطن مغربی گوداوری جو یوسف گوڑہ علاقہ میں واقع دیکشی سدن وومن ہاسٹل میں مقیم ہے۔ علاقہ یوسف گوڑہ میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے اے ٹی ایم سنٹر میں داخل ہوکر نقد رقم نکالنے کی کوشش کررہی تھی کہ اچانک نقاب پوش بندوق بردار رہزن اے ٹی ایم سنٹر میں داخل ہوگیا۔ رہزن نے سری للیتا کو بندوق کی نوک پر دھمکاتے ہوئے اسے طلائی زیورات حوالے کرنے کا انتباہ دیا جس کے نتیجہ میں خاتون چیخ و پکار کرنے کی کوشش کررہی تھی کہ اس نے ایک راونڈ فائرنگ کردی۔ خوفزدہ سری للیتا نے رہزن کو اپنے جسم پر موجود موجود طلائی چین، انگوٹھی، چوڑیاں اور بالیاں اس کے حوالے کردیئے اور رہزن نے اے ٹی ایم کارڈ اور موبائیل فون بھی لوٹ کر وہاں سے فرار ہوگیا۔ کچھ ہی دیر میں رہزن نے دوسرے اے ٹی ایم سے 3500 روپئے نقد رقم حاصل کرلئے۔ اس واقعہ کے بعد سری للیتا پر سکتہ طاری ہوگیا اور اس نے ایس آر نگر پولیس سے شکایت درج کروائی۔ اس واقعہ کا پتہ چلنے پر سینئر پولیس عہدیدار جو سوچھ حیدرآباد پروگرام میں مصروف تھے، مقام واردات پر پہنچ کر وہاں کا معائنہ کیا اور حیدرآباد سٹی پولیس کے سراغ رسانی دستہ (کلوز ٹیم) کو بھی طلب کرلیا اور بعدازاں خاتون کی شکایت پر ایک مقدمہ درج کرلیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اے ٹی ایم میں موجود سی سی ٹی وی کیمرہ میں یہ تمام واقعہ کی ریکارڈنگ ہوئی۔ پولیس بشمول سنٹرل کرائم اسٹیشن اور کمشنر ٹاسک فورس عملہ اس ریکارڈنگ کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور رہزن کی تلاش کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ایس آر نگر پولیس نے اس واقعہ سے متعلق ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا۔