یمن کے معزول صدر صنعا سے فرار ، عدن میں آمد ، بیرون ملک روانگی کا منصوبہ

صنعا ۔ 21 فبروری۔(سیاست ڈاٹ کام) یمن کے سابق صدر عبدربومنصور ہادی آج حوثی باغیوں کی اجازت کے بعد بالآخر دارالحکومت سے کسی نامعلوم مقام کو فرار ہوگئے ۔ حوثی باغیوں نے ان کی رہائش گاہ کا کئی دن سے محاصرہ کر رکھا تھا لیکن شدید بین الاقوامی اور مقامی دباؤ کے پیش نظر معزول صدر کو چھوڑ دیا گیا ۔ اس دوران منصور ہادی کے قریبی رفقاء نے بتایا کہ سابق صدر صنعا سے روانہ ہونے کے بعد عدن پہونچ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سابق صدر نے علاج کے لئے یمن سے کسی بیرون ملک روانہ ہونے کا منصوبہ بنالیا ہے۔ حوثی باغیوں نے گزشتہ سال ستمبر کے اوائیل میں یمنی دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا اور صدر عبدربومنصور ہادی کے خلاف بغاوت کے بعد باغی حوثیوں نے انھیں ( معزول صدر کو ) کئی ہفتوں تک گھر پر نظر بند رکھا تھا ۔ ہادی منصور کے رفقاء نے کہا کہ اقوام متحدہ ، امریکہ اور روس کے علاوہ مقامی سیاسی جماعتوں نے بھی باغیوں پر شدید دباؤ ڈالتے ہوئے معزول صدر کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں آج انھیں رہائش گاہ سے چلے جانے کی اجازت دی گئی ۔

عینی شاہدین نے کہا کہ سابق صدر کے چلے جانے کے بعد باغی حوثیوں نے ان (سابق صدر ) کی رہائش گاہ پر گھس کر بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی اور ساز و سامان لوٹ لیا گیا ۔ تین افراد کو ان کے گھر سے کلاشنکوف رائفلز لیکر فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ یمن میں اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر نے جمعہ کو کہا تھا کہ بشمول حوثی ، باغیوں نے ملک میں عبوری حکومت چلانے کیلئے سابق اور جدید قانون سازوں پر مشتمل ایک نئی مقننہ کے قیام سے اتفاق کرلیا ہے ۔ لیکن یمنی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے اس منصوبہ پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو نامکمل اور نصف حل قرار دیا ہے ۔

مرکزی اجتماعی جماعت ( یو جی پی ) کے ترجمان احمد لاکاز نے کہاکہ حوثیوں سے کہا گیا تھا کہ اگر ہادی منصور کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی ۔ حوثی باغیوں کی طرف سے صنعا پر قبضہ ، مغربی ممالک کی طرف سے اقتدار پر فائز کئے جانے والے صدر منصور ہادی کی معزولی اور گھر پر نظربندی اور پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد یمن ایک بدترین سیاسی بحران کا شکار ہوگیا ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے یمن میں القاعدہ شاخ کو بدستور نشانہ بنارہا ہے ۔ اس دوران جنوبی صوبہ عب میں ہزاروں افراد نے آج ہادی کی تائید میں جلوس نکالتے ہوئے حوثیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی اُمور میں مداخلت ترک کرتے ہوئے اس علاقہ سے واپس چلے جائیں ۔ تاہم حوثیوں نے جلوسیوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں ایک شخص ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے ۔