یلاریڈی /9 مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) یلاریڈی حلقہ اپنی آغوش میں عرصہ دراز سے اردو میڈیم جونئیر کالج کے قیام کی کمی شدت سے محسوس کرتا آرہا ہے ۔ لیکن آج تک کسی عوامی نمائندے نے اردو داں طبقہ نے اس مطالبہ کو پورا کرنے کی کوشش نہ کی ۔ یلاریڈی مستقر سے ہر سال کثرت سے طلباء و طالبات دسویں جماعت کامیاب ہوتے ہیں ۔ جنہیں انٹرمیڈیٹ کیلئے دوسرے علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ یہ سلسلہ ایک عرصہ سے چلتا آرہا ہے ۔ گذشتہ کی حکومتیں اس مسئلہ کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی کا مظاہرہ نہ کیا جس سے آج تک اردو ذریعہ تعلیم سے آراستہ ہونے کی جستجو رکھنے والوں کو سوائے مایوس کے اور کچھ نہ ملا ۔ مستقر پر گورنمنٹ جونئیر کالج نہ ہونے پر کچھ طلباء دوسرے علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور کچھ طلباء تعلیم ترک کرکے تجارت میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ جس سے اقلیتوں میں تعلیم جاری رکھنے کا جذبہ دن بہ دن ختم ہوتا جارہا ہے ۔ اولیائے طلباء کا کہنا ہے کہ تلنگانہ حکومت اردو کو ریاست میں دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا ہے ۔ چنانچہ تلنگانہ حکومت سے اردو داں طبقہ کو انصاف ملنے کی امید ہے ۔ فی الوقت کچھ طالبات بانسواڑہ کالج کو روزآنہ یہاں سے جایا کرتے ہیں ۔ جس سے اولیائے طلباء میں واپس طالبات کے آنے تک فکر لاحق رہتی ہے ۔ اس لئے کچھ افراد اپنی لڑکیوں کو ترک تعلیم کروانے پر بھی مجبور ہیں ۔ اس لئے ان افراد کا مطالبہ ہے کہ آنے والے تعلیمی سال سے یلاریڈی مستقر گورنمنٹ جونئیر کالج کے قیام کیلئے عوامی نمائندے حکومت سے نمائندگی کرے اور عرصہ دراز کا یہ مسئلہ حل کرتے ہوئے اردو داں طبقہ کے ساتھ انصاف کریں ۔